لندن — برطانیہ کے پرنس اینڈریو کے بارے میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ شاہی خاندان، بالخصوص اپنے بڑے بھائی شاہ چارلس کے خلاف شدید غصہ اور ناراضگی کا شکار ہیں، اور شاہی خاندان کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، ڈیوک آف یارک شاہی فرائض سے سبکدوش کیے جانے اور اپنی رہائش گاہ ‘رائل لاج’ سے نکالے جانے کے بعد گزشتہ 10 ماہ سے نورفولک کے ایک فارم ہاؤس میں منظرِ عام سے غائب ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک تصویر منظرِ عام پر آئی ہے جس میں ان کے چہرے پر جامنی رنگ کا نشان دیکھا گیا، جس سے ان کی صحت کے بارے میں افواہیں پھیل گئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نشان کسی سنگین بیماری کا نتیجہ نہیں ہے۔
شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس اینڈریو کا ماننا ہے کہ انہیں محل کی طرف سے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کے خاندان کو شاہی نظام سے بالکل الگ تھلگ کر دیا جائے۔ وہ اس بات پر بھی شدید برہم ہیں کہ اس پورے تنازع میں ان کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن اور ان کی دونوں بیٹیوں، شہزادی بیٹریس اور شہزادی یو جینی کو بھی گھسیٹا گیا ہے۔
قانونی تحقیقات میں تیزی
پرنس اینڈریو کو رواں سال فروری میں اپنے سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اب اس تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس میں سن 2002 میں شاہی گھڑ دوڑ کے دوران ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کی تفتیش بھی شامل کی گئی ہے۔ اس تفتیش میں جنسی نوعیت کے برے سلوک اور مالی کرپشن کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پرنس اینڈریو ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پرنس اینڈریو کا مؤقف ہے کہ عوامی دباؤ کے باعث شاہی خاندان نے انہیں قربانی کا بکرا بنایا ہے اور ان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
مالیاتی حساب کتاب اور مطالبات
ایک حالیہ سرکاری آڈٹ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرنس اینڈریو، ان کے عملے اور اہل خانہ کے زیرِ استعمال 12 جائیدادیں شاہی خاندان یا سرکاری املاک کی ملکیت ہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ پرنس اینڈریو نے رائل لاج کے ساتھ منسلک تین کوٹھیوں کو کرائے پر دے رکھا تھا اور اس کا تمام کرایہ وہ خود رکھ رہے تھے، جبکہ ان کی بیٹیوں کے محلات کے اخراجات اب بھی شاہ چارلس خود اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رائل لاج سے بے دخلی کے بعد پرنس اینڈریو نے حکومت اور محل سے بھاری مالی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ اپنی بیٹیوں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ شاہی تقریبات میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اسی ماہ ایک شاہی شادی میں ان کی بیٹیوں کی نمایاں شرکت کو اسی کوشش کا حصہ دیکھا جا رہا ہے۔ محل کے قریبی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر پرنس اینڈریو خاموش نہ رہے تو وہ شاہی خاندان کے لیے بڑی مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ طویل عرصے تک شاہی نظام کا حصہ رہے ہیں اور کئی اہم رازوں سے واقف ہیں۔ فی الحال بکنگھم پیلس اور پرنس اینڈریو کے نمائندوں نے ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
