اسلام آباد — وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز متعلقہ حکام کو ملک کے سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (ایمرجنسی تیل کے ذخائر) کو فوری طور پر بڑھانے کی ہدایت کی ہے، تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث پاکستان کو کسی بھی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے یہ احکامات کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے، جس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں اہم ترامیم کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مقامی آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، جس سے نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیات کے موافق یورو-5 (Euro-V) معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔
اس ترمیم شدہ پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے وزیر اعظم نے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں فوری طور پر روڈ شوز منعقد کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ حکومت مقامی ریفائنریز کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی معطل شدہ سرمایہ کاری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کی شرائط، ٹیکس چھوٹ کے مسائل اور بجٹ میں مراعات کے خاتمے کے باعث التوا کا شکار ہو گئی تھی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اور انہوں نے پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی کارکردگی میں بھی اصلاحات لانے کی ہدایت کی۔
