راولپنڈی کے ہائی اسکورنگ ون ڈے میں بابَر اعظم نے آج کلاس، ذمہ داری اور ٹائمنگ کا وہ ملاپ دکھایا جس کی پوری دنیا تعریف کرتی ہے۔ سری لنکا کے 288 رنز کے جواب میں پاکستان نے انتہائی پراعتماد انداز میں ہدف کا تعاقب کیا، اور اس تعاقب کی ریڑھ کی ہڈی بنے بابَر اعظم، جنہوں نے 116 گیندوں پر بے مثال سنچری مکمل کی۔ یہ اننگز اُس وقت بنی جب پاکستان ابتدائی وکٹیں کھو چکا تھا اور ایک سیٹ بیٹر کی اشد ضرورت تھی۔
بابَر اعظم کی یہ اننگز مکمل طور پر کلاس اور ٹیم ورک کی مثال تھی— نہ جلد بازی، نہ بے صبری، ہر شاٹ کتابی، ہر رنز سوچا سمجھا۔ ان کے ساتھ محمد رضوان 49 رنز پر کریز پر موجود ہیں اور دونوں نے مل کر میچ پاکستان کے مکمل کنٹرول میں دے دیا ہے۔ پاکستان اس وقت 285 رنز پر 2 کھلاڑی آؤٹ ہے، اور جیت کے لیے صرف 4 رنز 15 گیندوں پر درکار ہیں، یعنی نتیجہ تقریباً طے شدہ ہے۔
اس سے قبل فخر زمان نے 78 رنز کی شاندار باری کھیلی، جس نے ابتدائی دباؤ کم کیا۔ سائم ایوب نے بھی 33 رنز کی برق رفتاری اننگز سے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ دونوں اوپنرز نے سری لنکا کے بولرز کو ابتداء ہی سے پریشان کیے رکھا۔ دوسری جانب سری لنکن بولرز میں صرف چمیرا ہی نمایاں رہے جنہوں نے دو وکٹیں حاصل کیں، ورنہ باقی بولرز پاکستانی بیٹرز کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔
سری لنکا کی جانب سے 288 رنز کا مجموعہ بظاہر ایک معقول اسکور تھا، لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن نے انتہائی پروفیشنل، پراعتماد اور جدید ون ڈے کرکٹ کے معیار کے مطابق تعاقب کرتے ہوئے اسے آسان بنا دیا۔
بابَر اعظم کی سنچری نہ صرف اس میچ کا بڑا موڑ ثابت ہوئی بلکہ یہ اُن کے فارم کی شاندار واپسی بھی ہے— ایک ایسا پیغام جو ناقدین اور دنیا بھر کے شائقین کو یاد دلاتا ہے کہ بابَر کی کلاس ہمیشہ اپنی جگہ قائم ہے۔
اب پاکستان فتح سے صرف چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہے، اور راولپنڈی کا ہجوم بابَر اور رضوان کی شاندار بیٹنگ کے سامنے جھوم رہا ہے۔
