باغ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ اپنی سیاسی پوزیشن کے بارے میں غلط اندازہ لگا رہی ہے اور اسلام آباد میں اس کی حکومت بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔
باغ میں جمعے کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کو یہ سمجھنے میں غلطی ہو رہی ہے کہ آزاد کشمیر میں اس کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے خلاف بھی سیاسی حالات سازگار نہیں اور اس کے خلاف گنتی شروع ہو چکی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کے اندر موجود ایک حلقہ وزیراعظم شہباز شریف کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔
بلاول بھٹو نے شریف خاندان کے اندر مبینہ اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصل سیاسی کشمکش اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ہے اور یہ خاندان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ان کا یہ بیان وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن نے 24 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کی حیثیت حاصل کی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اب تک 10 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔
انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی میں 10 اگست کو پولنگ ہوگی، جہاں 11 نشستوں پر انتخاب ہونا باقی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی 10 اگست کو پونچھ میں ن لیگ کے انتخابی نشان شیر کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو متحرک رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں ابھی 11 نشستیں باقی ہیں اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ملک کے سیاسی نظام سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کی حاکمیت اور ان کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی استحکام اور حکومتی نظام کی بہتری کے لیے عوام کے فیصلے اور سیاسی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے۔
