جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں بی ٹی ایس کے جون میں ہونے والے دو روزہ کنسرٹس سے پہلے غیر ملکی سیاحوں کے لیے مختص سرکاری رہائش تقریباً مکمل طور پر بک ہو چکی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مداحوں کی تعداد کتنی زیادہ ہونے والی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق 11 اور 12 جون کے لیے بکنگ کی شرح پہلے ہی 80 فیصد سے اوپر جا چکی تھی، جبکہ 12 سے 13 جون کے عرصے کے لیے یہ شرح 99.56 فیصد تک پہنچ گئی۔
بی ٹی ایس کے یہ کنسرٹس 12 اور 13 جون کو بوسان ایشیاد مین اسٹیڈیم میں شیڈول ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بوسان کے شوز کے پری سیل ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں، اور شہر انتظامیہ کو پہلے ہی اندازہ ہے کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی مداح بوسان پہنچیں گے، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ گروپ کے ارکان جمن اور جنگ کوک کا تعلق اسی شہر سے ہے۔
نجی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز پر دباؤ کم کرنے کے لیے بوسان میٹروپولیٹن حکومت نے تقریباً 400 غیر ملکی سیاحوں کے لیے نسبتاً کم قیمت رہائش کا بندوبست کیا۔ اس میں دو یوتھ ٹریننگ سینٹرز اور ناے وون جونگ مندر میں ٹیمپل اسٹے شامل ہے۔ یہ ریزرویشن 27 اپریل سے این او ایل پلیٹ فارم کے ذریعے کھولی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یوتھ سینٹرز میں صرف چند آٹھ افراد والے کمرے باقی بچے، جبکہ مندر میں صرف 12 افراد کے گروپ روم دستیاب رہ گئے۔
رہائش کا بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ جنوری میں بوسان حکومت نے کہا تھا کہ ورلڈ ٹور کے اعلان کے بعد رہائش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور بکنگ کے مسائل سے متعلق 90 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ بعض مداحوں نے الزام لگایا کہ ہوٹلوں نے پہلے سے موجود بکنگ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جبکہ کچھ معاملات میں کمروں کے نرخ معمول سے کئی گنا زیادہ بتائے گئے۔
بعد ازاں مقامی رپورٹوں میں کہا گیا کہ بڑے بکنگ پلیٹ فارمز پر درج 135 رہائشی مقامات کے جائزے کے مطابق کنسرٹ والے ویک اینڈ پر ایک رات کے قیام کی اوسط قیمت 433,999 وون تک پہنچ گئی، جو عام ویک اینڈ کے مقابلے میں تقریباً 2.4 گنا زیادہ تھی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب یہ مسئلہ صرف مداحوں کی پریشانی نہیں رہا بلکہ بوسان کی سیاحتی ساکھ سے بھی جڑ گیا۔
شہری انتظامیہ نے اس تنقید کے بعد کئی اقدامات کیے ہیں۔ بوسان یوتھ ہاسٹل آرپینا نے اپنے معمول کے نرخ برقرار رکھتے ہوئے 107 کمرے کھولنے کا اعلان کیا، جہاں 446 افراد تک قیام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے کہا ہے کہ مناسب قیمت برقرار رکھنے والے رہائشی کاروباروں کے لیے مراعات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ جون تک بوسان اسٹیشن، گمھے انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ہیونڈے بیچ اور دیگر اہم مقامات پر خصوصی معائنے کیے جائیں گے۔ ان معائنوں میں قیمتوں، صفائی اور غیر ملکیوں کے لیے رہنمائی کی سہولت شامل ہوگی۔
بوسان کے میئر پارک ہیونگ جون نے اس پورے معاملے کو صرف ایک موسیقی پروگرام نہیں بلکہ شہر کے لیے ایک بڑے امتحان اور موقع کے طور پر پیش کیا ہے۔ شہر کی کوشش ہے کہ ایک طرف بڑے ہجوم کو محفوظ انداز میں سنبھالا جائے اور دوسری طرف بوسان کو ایک ایسے بین الاقوامی سیاحتی مرکز کے طور پر پیش کیا جائے جو بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو غیر ملکیوں کے لیے سرکاری رہائش کا تقریباً مکمل بک ہو جانا ایک واضح پیغام دیتا ہے: بی ٹی ایس کے مداح بڑی تعداد میں بوسان آ رہے ہیں، اور اب اصل چیلنج یہ ہے کہ شہر اس دباؤ کو کس حد تک سنبھالتا ہے تاکہ کنسرٹ کی رونق مہنگی رہائش کے تنازعے میں دب نہ جائے۔
