MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

کیا اے آئی ٹیکنالوجی پاکستان میں صحت کے شعبے پر بڑھتے بوجھ کو کم کر سکتی ہے؟

Last updated: جون 14, 2025 1:22 شام
Neha Ashraf
Share
SHARE

پاکستان کے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دائمی بیماریاں ملک کے تقریباً نصف گھرانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سروے کے دوران ملک بھر میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے گھر میں کوئی بھی دائمی حالات کا شکار ہے اور ان کے لیے باقاعدگی سے دوا لیتا ہے؟

سروے کے نتائج کے مطابق 21 فیصد نے گھر کے کسی فرد کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہونے کی اطلاع دی، 20 فیصد نے گھر میں ذیابیطس کے مسئلے کی موجودگی کی اطلاع دی جبکہ 10 فیصد نے یہ اطلاع دی کہ ان کے گھر میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر دونوں مسائل موجود ہیں۔

‎سروے میں47 فیصد نے اطلاع دی کہ ان کے گھروں میں ان بیماریوں میں سے کو بھی بیماری موجود نہیں ہے اور 2 فیصد لوگوں نے سروے کا جواب نہیں دیا۔

‎اس کے علاوہ، ماہرین صحت نے بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دائمی بیماریوں کے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

‎بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کے ذیابیطس اٹلس 2025ء کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے پھیلاؤ کی شرح 31.4 فیصد ہے۔

‎ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے جلد تشخیص اور بروقت تشخیص بہت ضروری ہے کیونکہ لاکھوں مریض اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ صحت کے کسی دائمی مسئلے کا بھی شکار ہیں جن سے جسم میں اعضاء کی خرابی جیسی سنگین پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

‎اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی جیسی نئی ٹیکنالوجی صحت کے عالمی منظر نامے میں انقلاب برپا کر رہی ہیں جو بیماریوں کی جلد تشخیص اور علاج میں ڈاکٹرز کی مدد کر رہی ہے لیکن پاکستان میں ماہرینِ صحت کا اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی جانب رجحان ابھی کم ہے۔

‎وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (WISPAP) کے چیئرمین شہزاد ارشد کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی سے چلنے والی طبی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے میں ملے گی۔

‎اُنہوں نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی طبی آلات بیماریوں کی جلد تشخیص، کسی بھی مسئلے کے بارے میں ڈاکٹرز سے آن لائن مشاورت کو ممکن بنا کر پاکستان میں آبادی کےلیے معیاری صحت کی دیکھ بھال کو مزید قابل رسائی اور سستی بنا سکتے ہیں۔

‎اُنہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں اے آئی کے استعمال کو بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے، تربیت اور مضبوط ڈیٹا گورننس میں اہم سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

‎ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال کے شعبہ ریڈیولوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے پاکستان میں صحت کے شعبے میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کم ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال میں اے آئی کا استعمال کافی عرصے سے ہو رہا ہے اور اس میں توسیع ہو رہی ہے لیکن جب اے آئی الگورتھم تیار کرنے کے لیے سافٹ ویئر ہاؤسز کے ساتھ مریضوں کا ڈیٹا شیئر کرنے کی بات آتی ہے تو چیلنجز درپیش ہیں۔

‎ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے اسپتالوں میں محققین کےلیے اسامیوں یا نوکریوں کی کمی کی وجہ سے بھی پاکستان کےلیے اپنے اے آئی سافٹ ویئر تیار کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایران کا جوابی حملہ: بیلسٹک میزائلوں کی بارش، اسرائیلی شہری اور فوجی اہداف نشانہ
Next Article سنجے کپور انگلینڈ میں پولو کھیلتے ہوئے 53 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

Health

ویکسین کی عدم دستیابی، پاکستان میں سپر فلو وائرس کا خطرہ بڑھ گیا

By Neha Ashraf
Health

مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، وزیر صحت

By Neha Ashraf
Health

اسموگ کے باعث، سانس، دل اور آنکھوں کے امراض بڑھنے کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

By Neha Ashraf
Health

سندھ حکومت کا صحت بجٹ میں 8 فیصد اضافہ

By Fatima Nadeem
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?