چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید "حیاتیاتی پیس میکر” (Biological Pacemaker) تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دل کی دھڑکن کو قدرتی انداز میں منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں روایتی برقی پیس میکرز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہے اور دل کی دھڑکن کی خرابیوں کے علاج میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی پیس میکر جینیاتی اور خلیاتی تکنیکوں کی مدد سے دل کے مخصوص خلیات کو اس طرح تبدیل کرتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر برقی سگنلز پیدا کر سکیں۔ یہ سگنلز دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے جسم کا قدرتی پیس میکر کام کرتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ابتدائی تجربات میں اس نئی ٹیکنالوجی نے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں اور دل کی دھڑکن کو مؤثر انداز میں برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مراحل میں بھی نتائج مثبت رہے تو اس سے ایسے مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جنہیں مستقل طور پر برقی پیس میکر کی ضرورت ہوتی ہے۔
روایتی پیس میکرز اگرچہ لاکھوں افراد کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ان کے ساتھ بیٹری کی تبدیلی، آلات کی خرابی اور سرجری جیسے مسائل بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حیاتیاتی پیس میکر ان مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جسم کے اپنے خلیات کو استعمال کرتا ہے۔
طبی ماہرین نے اس پیش رفت کو امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی آزمائشوں اور مزید تحقیق کے بعد ہی اس کی مکمل افادیت اور حفاظت کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جا سکے گی۔ تاہم یہ تحقیق دل کی بیماریوں کے علاج میں مستقبل کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
