کاغان — کاغان وادی میں منگل کے روز ہونے والی شدید بارش اور بادل پھٹنے کے واقعے نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے، جس کے نتیجے میں ناران کے قریب ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور سیکڑوں سیاح و مقامی افراد پھنس گئے۔
سیلابی ریلے ناران بائی پاس کے قریب رہائشی علاقوں میں داخل ہوئے، جس سے ہوٹلوں اور دکانوں میں پانی اور ملبہ جمع ہو گیا۔ مانسہرہ-ناران-جالکھڈ روڈ کا بڑا حصہ بہہ جانے یا ملبے تلے دب جانے سے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔
وادی میں سیاحت کے لیے آنے والے خاندانوں کے لیے یہ صورتحال اچانک پیدا ہوئی۔ دوپہر کو شروع ہونے والی موسلا دھار بارش دیکھتے ہی دیکھتے شدید سیلابی صورت اختیار کر گئی، جس نے سڑک کنارے موجود انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور مقامی پولیس نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنا شروع کیا۔
ایک سیاح نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، "پانی کا ریلا ہوٹل کی لابی تک پہنچ چکا تھا، سامان نکالنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ پولیس نے فوری طور پر اوپر والی منزلوں پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔”
انتظامیہ کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم مالی نقصان کا تخمینہ کافی زیادہ ہے۔ دریا کے کنارے کھڑی متعدد گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں یا کیچڑ میں دب گئیں، جبکہ ناران بازار میں بجلی کے کھمبے گرنے سے پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔
کاغان وادی میں اس طرح کے واقعات کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند تعمیرات اور دریائے کنہار کے کناروں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی ڈھلوانوں پر درختوں کی کٹائی کے باعث پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے براہ راست ندی نالوں کا رخ کرتا ہے، جو چند منٹوں میں تباہ کن سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھاری مشینری کو روڈ کلیئر کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ہے، تاہم مسلسل بارش امدادی کاموں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک وادی کا رخ نہ کریں۔
رات گئے تک سیکڑوں سیاح سرکاری عمارتوں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ اگرچہ پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن مقامی باشندوں کے لیے اب اصل چیلنج جمع ہونے والے ملبے کو ہٹانا اور تباہ شدہ املاک کا تخمینہ لگانا ہے۔
