اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے دارالحکومت میں غیر ملکی شہریوں پر حملے کے کیس میں گرفتار احمد رضا ڈار اور دیگر دو ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
سخت سیکیورٹی حصار میں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی ٹیم نے عدالت سے ملزمان کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاکہ واردات میں استعمال ہونے والے آلات، موبائل فونز اور دیگر شواہد برآمد کیے جا سکیں۔ تاہم، جج نے استدعا کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ریمانڈ کی مدت پانچ دن مقرر کی اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مدت ختم ہونے پر ملزمان کو دوبارہ پیش کیا جائے۔
یہ واقعہ رواں ہفتے پیش آیا جب نامعلوم افراد نے غیر ملکی شہریوں کی ایک گاڑی کو روکا اور ان پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں مقیم سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری اور شفاف تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں اقدامِ قتل، دھمکانے اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ استغاثہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ابتدائی فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات ملزمان کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسری جانب، ملزمان کے وکلاء نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے موکلوں کو غلط شناخت کیا گیا ہے اور پولیس کے پاس حراست میں رکھنے کے لیے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔
یہ گرفتاریاں اسلام آباد کے ہائی سیکیورٹی زونز میں امن و امان کی صورتحال پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کو جلد مکمل کر کے کابینہ کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
ملزمان اس وقت محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تحویل میں ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے پاس اب اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت ہے کہ وہ ایسا کیس تیار کرے جو عدالت میں ثابت ہو سکے، کیونکہ حکومت کو ملک میں غیر ملکی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے حوالے سے سخت عوامی و سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔
