نومبر 2، 2025
ویب ڈیسک
امریکی سیاست دان جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی ہندو بیوی، اوشا وینس، ایک دن عیسائیت قبول کرلیں گی۔ ان کے دفاع میں بھارتی نژاد میکا (MAGA) حامی تبصرہ نگار دینیس ڈیسوزا نے کہا کہ "ہر سچا عیسائی یہ چاہتا ہے کہ اس کا شریکِ حیات بھی اسی ایمان پر ہو”۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے آبا و اجداد نچلی ذات کے ہندو تھے جنہیں ظلم و ستم کا سامنا تھا، اسی لیے انہوں نے عیسائیت قبول کرلی۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوراً انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ ڈیسوزا نے اپنی کتاب "Becoming American” میں لکھا تھا کہ ان کے دادا کے مطابق ان کا خاندان برہمن ذات سے تعلق رکھتا ہے، جو ہندو سماج کی اعلیٰ ترین ذات سمجھی جاتی ہے۔
ڈیسوزا کے اس تضاد نے نہ صرف ان پر تنقید کی لہر دوڑا دی بلکہ مذہبی تبدیلی، ذات پات اور شناخت کی سیاست پر بھی ایک بار پھر بحث کو ہوا دے دی ہے، خصوصاً بھارتی نژاد امریکی برادری کے درمیان۔
