شمالی کوریا کا خفیہ کلیساؤں پر ’فتح‘ کا دعویٰ
شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک بھر میں زیرِ زمین چرچز اور خفیہ عبادتی گروہوں کو تقریباً ختم کر دیا ہے، اور حکام اسے مذہب پر مکمل کنٹرول کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ریاستی ذرائع کے مطابق حکومت اس بات پر مطمئن ہے کہ خفیہ مذہبی سرگرمیوں کو سخت کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا ہے۔
سیول کے میڈیا پلیٹ فارم ڈیلی این کے نے رپورٹ کیا ہے کہ اس کے شمالی کوریا میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ زیرِ زمین کلیساؤں کا ’’ق practically ختم‘‘ کر دیا گیا ہے۔ یہ اعتماد ان طویل کریک ڈاؤنز، چھاپوں اور سخت سزاؤں کے بعد سامنے آیا ہے جو برسوں سے جاری ہیں۔
تاہم منحرفین اور انسانی حقوق کے کارکنان اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے خفیہ گروہ اور انفرادی طور پر عبادت کرنے والے مسیحی اب بھی موجود ہیں اور شدید خطرات کے باوجود اپنے عقیدے پر قائم ہیں۔
جنوبی کوریا کے کارکن سونگ یونگ چے کا کہنا ہے کہ اس سال آنے والے منحرفین کی گواہیاں تصدیق کرتی ہیں کہ خفیہ عبادت بدستور جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا میں موجود رابطے بھی یہی اطلاعات دیتے ہیں، مگر ان کی حفاظت کے پیشِ نظر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
