جامعہ کراچی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیرِ اہتمام ورلڈ ہارٹ ڈے کے موقع پر آگاہی سیمینار "Don’t Miss a Beat!” کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ امراضِ قلب اور اساتذہ نے پاکستان میں دل کے امراض میں تیزی سے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنک فوڈ کے بڑھتے رجحان، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، اور عوام میں سائنسی شعور کے فقدان کو خطرناک قرار دیا۔
ایگزیکیٹو ڈائریکٹر و سیکریٹری گورننگ باڈی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز (NICVD) اور معروف ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر نے کہا کہ موجودہ دور میں جنک فوڈ کا بڑھتا استعمال بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر مستقبل میں ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینا ہے تو حکومت کو فوری طور پر جنک فوڈ کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل اسکول محدود جگہ پر قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں طلبہ کے لیے کھیل یا جسمانی سرگرمیوں کا کوئی انتظام نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر تعلیمی ادارے کے لیے کم از کم ایک ایکڑ رقبہ لازمی قرار دے تاکہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ جسمانی نشوونما کے مواقع بھی حاصل ہوں۔
ڈائریکٹر کارڈیوویسکولر سروسز ڈیپارٹمنٹ، او ایم آئی اسپتال کے ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر سید ندیم رضوی نے کہا کہ دل کی بیماریاں آج بھی عالمی سطح پر اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دل کی بیماری کا آغاز دراصل نوجوانی میں ہی ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق جو افراد 50 یا 60 سال کی عمر میں دل کے دورے کا شکار ہوتے ہیں، ان کی بیماری 15 سے 18 سال کی عمر میں ہی شروع ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ ذہنی دباؤ دل کے نظام کو دو طریقوں سے متاثر کرتا ہے اچانک دباؤ دل کی دھڑکن بڑھا دیتا ہے جبکہ مستقل دباؤ خون کی نالیوں کی اندرونی سطح کو نقصان پہنچاتا ہے، جہاں کولیسٹرول جمع ہو کر بعد میں امراضِ قلب کا باعث بنتا ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ عالمی یومِ امراضِ قلب منانے کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے تاکہ وہ وقت پر احتیاط اور علاج کو ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگ اب بھی پیروں، عاملوں اور تعویذ گنڈوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو خطرناک رجحان ہے۔ “ہمیں افسانوں پر نہیں بلکہ سائنس پر یقین کرنے کی ضرورت ہے،” انہوں نے زور دیا۔
ڈاکٹر عراقی نے مزید کہا کہ والدین کو بچوں کی خوراک، جسمانی صحت اور طرزِ زندگی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، جبکہ تعلیمی اداروں کو صحت مند سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر محمد ہاشم خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہر منٹ میں ایک شخص ہارٹ اٹیک کا شکار ہوتا ہے، جبکہ ہر دو سے تین منٹ میں ایک قیمتی جان ضائع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں دل کے 80 فیصد امراض قابلِ پرہیز (preventable) ہیں، لیکن بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کے باعث شرحِ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر ہاشم نے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں والا ملک قرار دیا گیا ہے، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں 1.3 ارب افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں، لیکن تقریباً نصف افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔
قبل ازیں ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن ڈاکٹر سیدہ حورالعین نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ بانی و چیئرمین ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل ڈاکٹر عمران یوسف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوام میں دل کی بیماریوں سے متعلق آگاہی، صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمیوں کے فروغ اور سائنسی شعور کے فروغ کے ذریعے ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
