MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات منہ میں ظاہر ہوتی ہیں، ماہرین صحت

Last updated: مارچ 15, 2026 12:10 صبح
Neha Ashraf
Share
SHARE

ماہرین صحت نے آنتوں کے کینسر کی وہ ابتدائی علامات بتائی ہیں جو منہ میں ظاہر ہوتی ہیں۔

‎واضح رہے کہ برطانیہ میں ہر 12 منٹ بعد کسی نہ کسی شخص میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے اور ہر سال تقریباً 17 ہزار افراد اس بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سرطان کی اس قسم کولوریکٹل کینسر بھی کہا جاتا ہے، یہ برطانیہ میں کینسر سے ہونے والی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔

‎اگرچہ آنتوں کی کیفیت میں تبدیلی اور پیٹ میں تکلیف اس کی سب سے معروف ابتدائی علامات سمجھی جاتی ہیں، لیکن تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ منہ میں ہونے والی تبدیلیاں بھی آنتوں کے کینسر کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہیں۔

‎آن لائن دی سلیپ ڈینٹسٹ کے ڈاکٹر مارک برہینے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دانتوں کے عام مسائل دراصل منہ کے مائیکرو بایوم میں عدم توازن کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ مائیکرو بایوم سے مراد منہ میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا کا نظام ہے۔

‎جب نقصان دہ بیکٹیریا اس نظام پر غالب آجاتے ہیں تو تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق آنتوں کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ہو سکتا ہے۔ منہ کے کچھ نقصان دہ بیکٹیریا آنتوں تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں تحقیق کے مطابق وہ سوزش پیدا کر سکتے ہیں، جو بعض صورتوں میں کینسر کی نشوونما کو بڑھا سکتی ہے۔

‎دانتوں کو صحیح طریقے سے برش اور فلاس نہ کرنا، سگریٹ نوشی، زیادہ الکحل کا استعمال، اور زیادہ چینی اور کم فائبر والی غذا اس نازک توازن کو خراب کر سکتے ہیں۔

‎انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے دانت کم ہوں یا جنہیں مسوڑھوں کی بیماری ہو، ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ قدرے زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر بڑی آنت کے اوپری حصوں میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

‎ڈاکٹر برہینے کے مطابق دانتوں کے کچھ عام مسائل منہ میں موجود بیکٹیریا میں تبدیلی کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

‎ان میں مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن یا مسوڑھوں کا پیچھے ہٹنا شامل ہے۔ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ دانت صاف کرتے وقت خون آنا مسوڑھوں کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کا تعلق آنتوں کی صحت میں تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ براہِ راست آنتوں کے کینسر کی وارننگ نہیں ہے۔

‎جب برش کرتے وقت مسوڑھوں سے خون آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں انفیکشن اور سوزش موجود ہے، جس سے نقصان دہ بیکٹیریا خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور نگلے جانے کے ذریعے نظامِ ہاضمہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

‎جن لوگوں کو مسوڑھوں کی بیماری ہوتی ہے ان میں بڑی آنت کے قبل از کینسر پولپس کا خطرہ 17 سے 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ خون آنا صرف علامت نہیں ہے، بلکہ اسی سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

‎ڈاکٹر برہینے کے مطابق یہ تقریباً بغیر علامات کے ہوتا ہے، اسی لیے یہ برسوں تک نظر انداز رہتا ہے۔ اسکے علاوہ منہ سے بدبو آنا جو کہ سانس کے ساتھ ایک بیکٹیریا فیو سو بیکٹیریم نیوکلی ایٹم سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ بیکٹیریا منہ میں پایا جاتا ہے، مسوڑھوں کی بیماری سے بھی جڑا ہوا ہے اور کچھ بڑی آنت کے کینسر کے ٹیومرز میں بھی پایا گیا ہے اور بڑی مقدار میں بعض باؤل کینسر کے ٹیومرز میں دیکھا گیا ہے۔

‎زبان پر سفید یا پیلی تہہ عام طور پر بیکٹیریا، ملبہ یا مردہ خلیات جمع ہونے کی وجہ سے بنتا ہے۔ یہ منہ کی ناقص صفائی، پانی کی کمی یا خشک منہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ یہ منہ کے مائیکرو بایوم میں تبدیلی کی عکاسی کر سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر آنتوں کے کینسر کے خطرے سے منسلک ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا یہ تہہ دراصل بیکٹیریا کا ذخیرہ ہوتی ہے۔

‎جن لوگوں کے چار یا اس سے زیادہ دانت گر چکے ہوں اور یہ اکثر برسوں مسوڑھوں کی بیماری کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، ان میں کینسر کولون پولپس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article کیا ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟
Next Article ‎عام درد کش ادویات کے استعمال سے متعلق خطرناک انکشاف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
جولائی کی تعطیلات سے قبل امریکہ میں شدید گرمی کی لہر، کروڑوں افراد متاثر
جولائی کی تعطیلات سے قبل امریکہ میں شدید گرمی کی لہر، کروڑوں افراد متاثر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جولائی 1, 2026
قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، کشیدگی کم کرنے کی کوشش
قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، کشیدگی کم کرنے کی کوشش
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026
انڈس کمشنر: دریائے چناب میں پانی کے اتار چڑھاؤ پر بھارت کی خاموشی برقرار
انڈس کمشنر: دریائے چناب میں پانی کے اتار چڑھاؤ پر بھارت کی خاموشی برقرار
بریکنگ نیوز
جولائی 1, 2026
چمگادڑ کے منہ پر بیٹھنے سے 11 سالہ لڑکے کی ریبیز سے ہلاکت
چمگادڑ کے منہ پر بیٹھنے سے 11 سالہ لڑکے کی ریبیز سے ہلاکت
Health تازہ ترین
جولائی 1, 2026
سعودی عرب میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے محسن نقوی کا دورہ
سعودی عرب میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے محسن نقوی کا دورہ
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026
آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد
آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026

You Might Also Like

Health

بوتل کا پانی صحت کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے: نئی تحقیق میں انکشاف

By Neha Ashraf
ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی
Health

ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ابتدائی طبی آزمائشوں میں ایک امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل (Islet Cell) ڈیوائس نے مریضوں میں کئی ہفتوں تک خون میں گلوکوز کی سطح کو مؤثر طور پر مستحکم رکھنے کے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ جدید ڈیوائس انسولین پیدا کرنے والے آئلٹ خلیات پر مشتمل ہے، جنہیں جسم میں نصب کیا جاتا ہے تاکہ وہ قدرتی لبلبے (Pancreas) کی طرح خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد دے سکیں۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ڈیوائس نے گلوکوز کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے اور خون میں شوگر کے بہتر کنٹرول میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ موجودہ علاج میں مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجیکشن یا پمپ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق کے دوران ڈیوائس کو محدود تعداد میں مریضوں میں آزمایا گیا، جہاں کئی شرکاء میں ہفتوں تک گلوکوز کی سطح نسبتاً مستحکم رہی اور انسولین کی ضرورت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ نتائج ابتدائی مرحلے کے ہیں، تاہم سائنسدان انہیں ذیابیطس کے علاج میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ محققین نے واضح کیا کہ ڈیوائس کی طویل مدتی کارکردگی، حفاظت اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صلاحیت جانچنے کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے۔ اس کے باوجود ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ خودمختار اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آئندہ آزمائشوں میں بھی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ طریقہ کار ذیابیطس کے روایتی علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے اور مریضوں کے لیے مسلسل گلوکوز کنٹرول کا ایک نیا اور مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔

By Misbah Jogyat
Health

لاہور: منکی پاکس کے کیسز رپورٹ

By Neha Ashraf
Health

آنتوں کا کینسر 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر سے اموات کی بڑی وجہ

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?