انگلینڈ میں ریکارڈ توڑ گرمی اب صرف موسم کی خبر نہیں رہی بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، گزشتہ برس شدید گرمی کی لہروں کے دوران ملک بھر میں 2700 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔
یہ تعداد اس ملک کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے جو معتدل موسموں کا عادی رہا ہے۔ مرنے والوں میں اکثریت 65 برس سے زائد عمر کے افراد کی ہے۔ شدید گرمی میں، جب درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر گیا، تو ان افراد کے جسم اس بڑھتی ہوئی تپش کو برداشت نہ کر سکے۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ گرمی ایک خاموش قاتل ثابت ہوئی۔ اس نے پہلے سے موجود سانس اور دل کے امراض کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس سے معمولی نوعیت کی دائمی بیماریاں چند دنوں کے اندر جان لیوا بن گئیں۔ اموات کا یہ سلسلہ صرف لندن جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہی علاقوں میں بھی شرح اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس نے مقامی ہیلتھ سروسز کو ہکا بکا کر دیا۔
موجودہ انفراسٹرکچر پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ ملک کا رہائشی نظام ہے۔ انگلینڈ کے گھروں کو موسم سرما میں گرم رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، نہ کہ گرمی کی لہروں میں ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے۔ جب کئی دنوں تک سورج آگ برساتا ہے، تو یہ اینٹوں سے بنے گھر کسی تندور کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جہاں بزرگوں اور کمزور افراد کے لیے بچاؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار اب ایک نیا معمول بن سکتے ہیں۔ جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، "ہیٹ ہیلتھ الرٹس” کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے قومی سطح پر گرمی سے بچاؤ کے منصوبے شروع کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک یہ اقدامات ہنگامی نوعیت کے ہیں، نہ کہ دیرپا حل۔
ڈیٹا کا جائزہ لینے والے ایک پبلک ہیلتھ محقق نے کہا، "ہم ایک واضح اور مہلک تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم ان ہیٹ ویوز کو محض غیر معمولی واقعات قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ اب ہماری معاشرے کے کمزور طبقوں کے لیے ایک متوقع اور بار بار سر اٹھانے والا خطرہ ہیں۔”
نیشنل ہیلتھ سروس پر بھی اس کا مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ہر ہیٹ ویو ہنگامی داخلوں میں ایک ایسا طوفان لاتی ہے جس کے اثرات ہفتوں تک نظام پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب تک شہری منصوبہ بندی اور گھروں کی تعمیر میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، گرمی سے ہونے والی اموات کی یہ تعداد موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہے گی۔
