کائلین ایمباپے کے 78 ویں منٹ میں پنالٹی کک پر کیے گئے گول نے فرانس کو ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا ہے۔ پیراگوئے کی سخت مزاحمت کے سامنے فرانسیسی ٹیم کو فتح کے لیے پسینہ بہانا پڑا اور میچ کا فیصلہ کسی شاندار کھیل کے بجائے ایک تکنیکی غلطی پر ہوا۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ تب آیا جب وی اے آر (VAR) نے اینٹوان گریزمین کے خلاف پنالٹی باکس میں ہونے والے فاؤل کی تصدیق کی۔ پیراگوئے کا دفاع، جس نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک فرانسیسی حملوں کو ناکام بنایا تھا، اس دباؤ کے سامنے ٹوٹ گیا۔ ایمباپے نے گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا کر ٹیم کو برتری دلا دی۔
فرانس کے لیے یہ نتیجہ کارکردگی سے زیادہ "نتیجہ خیز” رہا۔ دیدیئر ڈیشامپس کی ٹیم نے گیند پر زیادہ کنٹرول تو رکھا مگر پیراگوئے کے منظم دفاع کو توڑنے میں ناکام رہی۔ جنوبی امریکی ٹیم نے اپنی دفاعی حکمت عملی اور تیز جوابی حملوں کے ذریعے فرانسیسی گول کیپر ہیوگو لوریس کو دو بار مشکل میں ڈالا۔
فرانس کے لیے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ ٹیم اب بھی اجتماعی کھیل کے بجائے انفرادی مہارت پر انحصار کر رہی ہے۔ اگر انہیں ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں آگے بڑھنا ہے تو انہیں منظم دفاع کے خلاف مزید تخلیقی حل تلاش کرنا ہوں گے۔
پیراگوئے ٹورنامنٹ سے باہر ضرور ہوا ہے لیکن انہوں نے اپنے کھیل سے متاثر کیا۔ میچ کے آخری دس منٹوں میں جب انہوں نے برابری کا گول کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، تو فرانسیسی دفاعی لائن میں واضح گھبراہٹ دیکھی گئی۔ ان کا کھیل سادہ مگر ٹھوس تھا، جو تقریباً میچ کو ایکسٹرا ٹائم میں لے جانے کے لیے کافی تھا۔
میچ کے بعد کائلین ایمباپے نے کہا، "ہمیں معلوم تھا کہ یہ مشکل ہوگا۔ ایسے ہی میچ ٹورنامنٹ کا رخ متعین کرتے ہیں۔ ہر بار خوبصورت فٹ بال کھیلنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن آپ کو جیتنا پڑتا ہے۔”
فرانس کی نظریں اب کوارٹر فائنل پر ہیں، جہاں ان کا مقابلہ مراکش اور اسپین کے درمیان ہونے والے میچ کے فاتح سے ہوگا۔ اگر انہیں ٹرافی اٹھانی ہے تو انہیں ریفری کی سیٹی کے انتظار کے بغیر اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانا ہوگا۔
فی الحال، فرانس اگلے مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ اور اس ورلڈ کپ میں، جہاں کئی بڑی ٹیمیں پہلے ہی باہر ہو چکی ہیں، صرف جیتنا ہی کافی ہے۔
