ہر سال 14 اگست آتے ہی پاکستان میں جشنِ آزادی کے ساتھ کچھ ایسے ملی نغمے بھی واپس آ جاتے ہیں جن کی دھنیں کئی نسلوں کی یادوں کا حصہ بن چکی ہیں۔ کچھ گیت قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں سے وابستہ ہیں، کچھ اسکولوں کی تقریبات، کرکٹ میچز اور خاندانی محفلوں کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ بعض ہر سال یومِ آزادی کی پلے لسٹ کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔
تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان کی ملی نغمہ نگاری نے کئی مراحل طے کیے۔ ابتدائی دور کے روایتی اور کلاسیکی نغموں سے لے کر پاپ، راک اور جدید موسیقی تک اس کا انداز بدلتا رہا، تاہم وطن سے محبت، قومی فخر، امید اور وابستگی کے جذبات تقریباً ہمیشہ ایک جیسے رہے۔
1947 میں پاکستان کے قیام کے چند ہی دن بعد ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح جیسے گیت سامنے آئے۔ اسے میاں بشیر احمد نے لکھا جبکہ منور سلطانہ اور قادر فریدی نے ریڈیو پاکستان لاہور پر اگست 1947 میں پیش کیا۔
اس وقت پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست تھا اور ریڈیو عوام تک رسائی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ملی نغموں نے نئی ریاست کے قومی تشخص کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
1970 کی دہائی پاکستان کے ملی نغموں کے حوالے سے انتہائی یادگار رہی۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے، جسے شہناز بیگم کی آواز سے خاص شہرت ملی، مسرور انور کا لکھا ہوا اور سہیل رعنا کا کمپوز کیا ہوا گیت تھا۔ اس میں محض بلند بانگ وطن پرستی کے بجائے پاکستان کی خوبصورتی اور سرزمین سے محبت کو اجاگر کیا گیا، جس نے اسے نسل در نسل مقبول رکھا۔
اسی دور کا ایک اور معروف گیت ہم زندہ قوم ہیں تھا، جسے بینجمن سسٹرز کی آواز نے خاص پہچان دی۔ قومی عزم، اجتماعی طاقت اور شناخت پر مبنی یہ نغمہ اسکولوں، ٹیلی ویژن پروگراموں اور یومِ آزادی کی تقریبات کا مستقل حصہ بن گیا۔
1974 میں جیَوے جیَوے پاکستان نے ملی نغموں کی روایت کو مزید مضبوط کیا۔ اسے شہناز بیگم نے گایا، جمیل الدین عالی نے لکھا جبکہ موسیقی سہیل رعنا نے ترتیب دی۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ نغمہ بچپن کی 14 اگست کی تقریبات، اسکول اسٹیجز اور ٹیلی ویژن کی یادوں سے جڑا ہوا ہے۔
1980 کی دہائی میں یہ وطن تمہارا ہے نے حب الوطنی کو ایک زیادہ سنجیدہ اور فکر انگیز انداز دیا۔ مہدی حسن کی آواز نے اس نغمے میں غیر معمولی جذباتی گہرائی پیدا کی۔ گیت صرف وطن کی تعریف نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو اپنے ملک کے لیے ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔
پھر 1987 میں پاکستانی ملی موسیقی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ وائٹل سائنز کا گیت دل دل پاکستان، جسے جنید جمشید نے گایا، نوجوان نسل کے لیے حب الوطنی کو پاپ موسیقی کے نئے انداز میں لے کر آیا۔
نثار ناسک کے تحریر کردہ اس گیت کو وائٹل سائنز کے لیے شعیب منصور نے تیار کیا۔ اس کی نوجوانوں سے جڑی پیشکش نے اسے غیر معمولی مقبولیت دی اور بعد میں یہ پاکستان کے غیر سرکاری دوسرے قومی ترانے کے طور پر بھی مشہور ہوا۔
1990 کی دہائی میں پاکستانی پاپ موسیقی مزید مضبوط ہوئی اور آواز کے گیت اے جوان نے نئی نسل کی ترجمانی کی۔ اس دور میں ملی نغمے روایتی گلوکاروں اور سرکاری ٹیلی ویژن تک محدود نہیں رہے بلکہ ملکی پاپ کلچر کا اہم حصہ بن گئے۔
1996 میں جنون نے جذبۂ جنون کے ذریعے حب الوطنی کو راک موسیقی سے جوڑ دیا۔ البم انقلاب میں شامل یہ گیت خاص طور پر نوجوانوں میں مقبول ہوا۔ کرکٹ اور قومی کھیلوں کے اہم مواقع کے ساتھ اس کی وابستگی نے اسے پاکستانی مقبول ثقافت میں مزید مضبوط مقام دیا۔
2003 میں ہارون کا دل سے میں نے دیکھا پاکستان ملی نغموں کی روایت کو نئی صدی میں لے آیا۔ اس گیت میں براہِ راست نعروں کے بجائے لوگوں، مقامات اور ذاتی یادوں کے ذریعے پاکستان کو پیش کیا گیا، جس نے اسے ایک نرم اور ذاتی رنگ دیا۔ ہارون نے 2017 میں یومِ آزادی کے موقع پر اس گیت کو دوبارہ پیش کرکے اسے نئی نسل تک پہنچایا۔
2017 میں عاطف اسلم کی آواز میں کبھی پرچم میں لپٹے ہیں نے حب الوطنی کا ایک زیادہ سنجیدہ اور جذباتی رخ پیش کیا۔ اس گیت میں فوجی جوانوں، ان کے خاندانوں، قربانی اور قومی پرچم کے درمیان تعلق کو اجاگر کیا گیا۔
پاکستان کی ملی موسیقی کا یہ سفر دراصل ملک کی اپنی تاریخ اور نسلوں کی تبدیلی کا عکاس ہے۔ ریڈیو کے ابتدائی دور سے لے کر پاپ، راک اور جدید موسیقی تک ہر نسل نے یومِ آزادی کے گیتوں میں اپنی آواز شامل کی۔
1947 سے آج تک پھیلی یہ موسیقی دراصل پاکستان کی ایک ایسی داستان ہے جس میں بدلتے ہوئے ذوق، نئی نسلوں کے رجحانات اور وطن سے مستقل وابستگی سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر اگست میں یہ پرانے اور نئے گیت ایک بار پھر سنائی دیتے ہیں اور پاکستان کی اجتماعی یادوں کو تازہ کردیتے ہیں۔
