بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی مالی معاونت میں کمی کے باعث پاکستان میں ایچ آئی وی (HIV) کے روک تھام اور علاج کے پروگرام شدید دباؤ کا شکار ہیں، ماہرین اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ برسوں کی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ایچ آئی وی پروگرامز زیادہ تر گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ میلریا (Global Fund) پر انحصار کرتے ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں سے ملک میں اس بیماری کے خلاف خدمات فراہم کر رہا ہے۔
تاہم حالیہ گرانٹ میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی اہم پروگرامز محدود ہو گئے ہیں۔ گلوبل فنڈ نے پاکستان کے لیے مختص رقم میں تقریباً 4 ملین ڈالر کی کمی کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کے جوائنٹ پروگرام آن ایچ آئی وی/ایڈز (UNAIDS) کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3.5 لاکھ افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں، لیکن صرف 21 فیصد افراد اپنی حالت سے واقف ہیں اور صرف 18 فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فنڈز کی کمی سے ٹیسٹنگ، مشاورت اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرامز متاثر ہو رہے ہیں، جس سے وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ آئی وی کے پروگرامز کے لیے مقامی سطح پر فنڈنگ میں اضافہ کیا جائے تاکہ بیماری پر قابو پایا جا سکے اور پچھلی دہائیوں میں حاصل کردہ کامیابیاں ضائع نہ ہوں۔
