گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں سمسٹر فیس میں مبینہ طور پر 150 فیصد اضافے کے بعد طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
طلبہ کے مطابق نئے فیس واؤچرز میں ٹیوشن فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے جس نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ فیسوں میں اتنا بڑا اضافہ بغیر مناسب پیشگی اطلاع یا مشاورت کے نافذ کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں طلبہ پریشانی کا شکار ہیں۔ کئی طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے دوران اتنی زیادہ فیس ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔
معاملہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے زیرِ بحث آ گیا جہاں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فیسوں میں اضافے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔ بعض طلبہ تنظیموں نے احتجاج اور تعلیمی حکام سے مداخلت کی اپیل بھی کی۔
والدین کا کہنا ہے کہ سرکاری جامعات میں تعلیم پہلے ہی مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور اتنے بڑے اضافے سے بہت سے طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بعض طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی طلبہ کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑ سکتی ہے۔
طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فیسوں میں اضافے کی وجوہات واضح کرے اور معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ملک بھر کی کئی جامعات بجٹ کی کمی، بڑھتے انتظامی اخراجات، مہنگائی اور حکومتی فنڈنگ میں کمی کے باعث فیسوں میں اضافہ کر رہی ہیں، تاہم اچانک اور بہت زیادہ اضافے اکثر شدید عوامی ردِعمل کا باعث بنتے ہیں۔
تاحال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ 150 فیصد اضافے پر کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم اس معاملے نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی لاگت اور طلبہ کے لیے مالی رسائی کے مسائل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
