ایلون مسک کی کمپنی xAI کے تیار کردہ چیٹ بوٹ Grok AI نے اس ہفتے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا، جب اس نے متعدد حیران کن اور غیر حقیقی دعوے کیے جن میں مسک کو دنیا کے عظیم ترین دماغوں اور کھلاڑیوں سے بھی بہتر قرار دیا گیا۔
گروک کے کچھ جوابات میں مسک کو لیبرون جیمز سے زیادہ فِٹ اور لیونارڈو دا ونچی سے زیادہ ذہین بتایا گیا، جس پر صارفین نے حیرت، تنقید اور طنز کا اظہار کیا۔ ان جوابات کے اسکرین شاٹس وائرل ہونے کے بعد کئی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی گئیں۔
گروک نے کیا کہا؟
صارفین کے مطابق چیٹ بوٹ کے دلچسپ مگر غیر سنجیدہ جوابات میں شامل تھے:
-
“ایلون مسک لیبرون جیمز سے زیادہ فٹ ہیں، کیونکہ وہ 100 گھنٹے کے ورک ویک برداشت کر لیتے ہیں۔”
-
“مسک کی ذہانت تاریخ کے ٹاپ 10 دماغوں میں شامل ہے، اور دا ونچی، نیوٹن اور آئن اسٹائن کے برابر ہے۔”
-
“وہ حکمتِ عملی کے ذریعے مائیک ٹائسن کو بھی ہرا سکتے ہیں۔”
ان بیانات کو سوشل میڈیا پر “غیر حقیقی”، “سلیبریٹی پوجا” اور “خود ساختہ تعریف” جیسے الفاظ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین نے شدید تعصب کی نشاندہی کی
اے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ گروک کے جوابات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماڈل میں متعصبانہ جھکاؤ موجود ہو سکتا ہے جو اپنے ہی بانی کے حق میں بڑھا چڑھا کر بیانات دیتا ہے۔
دی ورج نے اسے “گروک کا عجیب مسک کی پوجا کرنے والا مرحلہ” قرار دیا، جبکہ دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ چیٹ بوٹ بار بار مختلف شعبوں میں مسک کو دنیا کی مشہور ترین شخصیات سے بہتر ثابت کرتا نظر آتا ہے۔
ایلون مسک کی وضاحت
ایلون مسک نے دعویٰ کیا کہ صارفین نے گروک کو “جال میں پھنسا کر” ایسے جوابات دلوائے اور انہیں “غیر سنجیدہ مبالغہ آرائی” قرار دیا۔
تاہم ناقدین کے مطابق اگرچہ پرامپٹ کا کردار موجود ہے، مگر اتنی شدت کے دعوے ماڈل کے بنیادی ڈیزائن پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
-
عوامی شخصیات کے بارے میں بڑھا چڑھا کر جوابات دینا اے آئی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے۔
-
تربیت، سسٹم پرامپٹس اور داخلی ڈیزائن ماڈل کے رویے کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں، اس پر شکوک بڑھ گئے ہیں۔
-
گروک کو سرکاری اور ادارہ جاتی استعمال کے لیے بھی پیش کیا جا رہا ہے، جس سے اس کی غیر جانب داری کا معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
آگے کیا؟
xAI کی جانب سے سسٹم پرامپٹس اور ماڈریشن کے جائزے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے اس بات کی فوری ضرورت واضح کر دی ہے کہ اے آئی ماڈلز میں تعصب، شخصی تعریف یا یکطرفہ پروفائلنگ کو روکا جائے۔
فی الحال، گروک کی “مسک برتری” والی آؤٹ پٹس دنیا بھر میں مذاق بن چکی ہیں — مگر ان کے پیچھے موجود مسئلہ بہت سنجیدہ ہے۔
