کراچی: عالمی خلائی تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم قدم کے طور پر، چین نے ممکنہ سیٹلائٹ تصادم کو روکنے کے لیے پہلی بار ناسا سے رابطہ کیا، جو دونوں خلائی طاقتوں کے درمیان ایک نادر تعاون کی علامت ہے۔
ناسا کے ڈائریکٹر برائے خلائی پائیداری، ایلویِن ڈریو کے مطابق، چینی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) نے ناسا کو ایک ممکنہ سیٹلائٹ قریب آنے (conjunction) کی اطلاع دی۔ ڈریو نے سڈنی، آسٹریلیا میں منعقدہ انٹرنیشنل ایسٹروناٹیکل کانگریس کے دوران بتایا
“چین نے ہمیں بتایا، ‘ہم نے قریب آنے کا امکان دیکھا ہے۔ براہ کرم اپنی پوزیشن برقرار رکھیں، ہم اپنے سیٹلائٹ کی حرکت سنبھالیں گے۔’”
اس سے پہلے، ایسے مواقع پر ہمیشہ ناسا ہی رابطہ کرتی تھی اور چین سے درخواست کی جاتی تھی کہ وہ اپنی پوزیشن برقرار رکھے جبکہ ناسا اپنے سیٹلائٹ کو ایڈجسٹ کرتا۔ اس بار چین کی جانب سے پہل کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کا خلائی نگرانی نظام اب بین الاقوامی سطح پر خلائی خطرات کا پتہ لگانے اور ان کا انتظام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین دونوں اپنے سیٹلائٹ کنسٹیلیشنز کو بڑھا رہے ہیں، جیسے کہ اسٹارلِنک (Starlink)، گووانگ (Guowang) اور تھاؤزنڈ سیلز (Thousand Sails) کے منصوبے۔ سیٹلائٹس کی تیز رفتار بڑھوتری سے خلائی ٹریفک اور خلائی ملبے (space debris) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے سرحد پار تعاون کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
چین نے اس مقصد کو اپنے 2022 کے خلائی وائٹ پیپر میں اجاگر کیا تھا، جس میں 2021 سے 2026 کے دوران خلائی ملبہ ہٹانے اور سیٹلائٹ سیکیورٹی سسٹمز میں ترقی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ اگرچہ امریکہ کے "وولف ایمنڈمنٹ” کے تحت ناسا اور چینی خلائی حکام کے درمیان براہ راست تعاون محدود ہے، لیکن یہ تبادلہ خلائی آپریشنز کی طویل المدتی حفاظت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔
