برینٹفورڈ اور فلہم کے درمیان ہفتے کو جی ٹیک کمیونٹی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا ویسٹ لندن ڈربی 0-0 سے برابر ختم ہوا، اور یہ نتیجہ دونوں ٹیموں کے لیے کسی حد تک مایوس کن رہا کیونکہ پریمیئر لیگ میں یورپی مقامات کی دوڑ اب زیادہ سخت ہو چکی ہے۔
میچ میں برینٹفورڈ زیادہ خطرناک ٹیم دکھائی دی۔ ہوم سائیڈ نے زیادہ بہتر مواقع بنائے اور آخری لمحات تک گول کی تلاش جاری رکھی، مگر فلہم کے گول کیپر بیرنڈ لینو نے اہم مواقع پر شاندار بچاؤ کر کے اپنی ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔
فیصلہ کن لمحہ اختتامی وقت میں آیا، جب ڈینگو اواتارا کے پاس برینٹفورڈ کو فتح دلانے کا سنہری موقع تھا۔ ایسا لگا کہ گیند جال میں جانے ہی والی ہے، لیکن لینو نے زبردست ریفلیکس سیو کر کے فلہم کے لیے ایک قیمتی پوائنٹ بچا لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے پورے مقابلے کا خلاصہ پیش کر دیا: برینٹفورڈ کے پاس مواقع تھے، فلہم کے پاس لینو تھے۔
فلہم کی کارکردگی حملے میں خاصی پھیکی رہی۔ وہ پورے میچ میں کوئی ایسا حملہ نہ کر سکے جو برینٹفورڈ کے دفاع کو مسلسل دباؤ میں لا سکتا، اور ان کی جانب سے گول پر ایک بھی شاٹ نہ آنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ آگے جا کر وہ کتنے بے اثر رہے۔
دوسری طرف برینٹفورڈ کے لیے یہ نتیجہ خاص طور پر تکلیف دہ ہوگا، کیونکہ فتح کی صورت میں وہ یورپی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر سکتے تھے۔ مسلسل ڈراز نے انہیں ریس سے باہر تو نہیں کیا، مگر رفتار ضرور سست کر دی ہے۔ سیزن کے اس مرحلے پر، جب ہر پوائنٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ایسے میچ بعد میں بہت بھاری محسوس ہوتے ہیں۔
فلہم کے دفاع نے، خاص طور پر مرکزی دفاعی کھلاڑیوں نے، دباؤ میں کافی منظم کھیل پیش کیا۔ برینٹفورڈ نے گیند کے ساتھ زیادہ ارادہ دکھایا، باکس کے قریب زیادہ خطرہ پیدا کیا، مگر آخری ٹچ اور مکمل کرنے کی صلاحیت ان کا ساتھ نہ دے سکی۔
یوں ویسٹ لندن ڈربی بغیر کسی گول کے ختم ہوا، لیکن اس کے اثرات کافی واضح ہیں۔ برینٹفورڈ کو یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ دو پوائنٹس کہاں کھو بیٹھے، جبکہ فلہم اس بات پر اطمینان کر سکتے ہیں کہ ایک مشکل دوپہر میں انہوں نے کم از کم ایک پوائنٹ بچا لیا۔
