کراچی:قید سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نوری نیا زی نے پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک فوجی سربراہ آصف منیر کے تحت “ہٹلر کے دور سے بھی بدتر” صورتحال کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین ہفتوں سے خاندان کا عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، جس سے ان کی سلامتی پر گہری تشویش پیدا ہوئی ہے۔
نوری نیا زی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کے ساتھ کچھ بھی ہوا تو “آصف منیر کی نسلیں پاکستان میں کبھی محفوظ نہیں رہیں گی۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ خان کو عدیالہ جیل میں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کے ایک لفظ پر کارکن جیل کے دروازے توڑ کر انہیں بچانے کے لیے حرکت میں آ سکتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو “پاکستان کی تاریخ کا سب سے تاریک دور” قرار دیتے ہوئے حکام پر سیاسی حقوق دبانے، عدلیہ کو کمزور کرنے اور پولیس کو خواتین و بچوں کے خلاف بھی طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کے الزامات لگائے۔ انہوں نے بتایا کہ خاندان کو بار بار عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور حکام نے ان کی صحت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
عمران خان کی صحت اور رابطے کی پابندی کے حوالے سے شایعات نے ان کے حامیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ نوری نیا زی نے کہا کہ خاندان نے میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم کیا کہ عمران خان کی موت کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ خبریں گردش کر رہی ہیں، نہ کہ حکام سے۔
اس سے قبل عمران خان کے چھوٹے بیٹے قاسم خان نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے پاس “زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے” اور اگر سابق وزیراعظم کے ساتھ کچھ ہوا تو حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
اس غیر یقینی صورتحال کے دوران، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے ہمراہ عدیالہ جیل گئے تاکہ خان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عمران کی بہن علیمہ خان کو بھی ملاقات سے روک دیا گیا۔
جیل حکام نے تاہم خان کی موت کی شایعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحت مند ہیں، البتہ خاندان کے افراد براہِ راست ملاقات اور تصدیق کے مطالبات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
