پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو یہ یورپ کے لیے ایک "ریڈ لائن” ہوگی اور اس پر مضبوط یورپی ردِعمل سامنے آئے گا۔
پیرس میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ یہودی آبادکاروں کا تشدد اور بستیوں کی توسیع خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جو نہ صرف خطے کے استحکام کو متاثر کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
“جزوی یا مکمل الحاق، خواہ قانونی ہو یا عملی، ایک ایسی ریڈ لائن ہے جس پر ہم اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ سخت ردعمل دیں گے،” میکرون نے واضح کیا۔
یہ ملاقات حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے ایک ماہ بعد ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں ممالک کے درمیان دو سالہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
89 سالہ محمود عباس، جو فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہیں، کو جنگ کے بعد غزہ کی ممکنہ حکمرانی کے لیے ایک اہم امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ میکرون نے یاد دلایا کہ فرانس نے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے نئے سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مغربی کنارے میں تشدد میں جنگ کے آغاز سے اب تک نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 1000 سے زائد فلسطینی جن میں عسکریت پسند بھی شامل ہیں اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 43 اسرائیلی بشمول فوجی فلسطینی حملوں میں مارے گئے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے "فلسطینی ریاست کو مضبوط کرنے” کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ میکرون کے مطابق یہ کمیٹی نئے فلسطینی آئین کے مسودے کی تیاری میں کردار ادا کرے گی، جس کا پہلا ڈرافٹ صدر عباس نے پیش کیا ہے۔
پیرس میں ہونے والی اس ملاقات نے ظاہر کیا کہ فرانس مشرقِ وسطیٰ میں امن اور دو ریاستی حل کے لیے ایک بار پھر فعال سفارتی کردار ادا کرنا چاہتا ہے، اور میکرون نے خبردار کیا کہ اگر تشدد اور بستیوں کی توسیع جاری رہی تو خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
