حکومت نے ایک بار پھر قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری مؤخر کر دی ہے۔ نجکاری کا عمل، جو پہلے دسمبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہونا تھا، اب پرائیویٹائزیشن کمیشن کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔
پی آئی اے کے ذرائع کے مطابق نجکاری کے عمل میں حصہ لینے کے لیے چار بڑی کمپنیاں اہل قرار دی گئی ہیں۔ دلچسپی رکھنے والوں میں فوجی فرٹیلائزر، حبیب رفیق، یونس برادرز اور ایئر بلو شامل ہیں۔ کامیاب بولی دہندہ کو ایئرلائن کی بہتری کے لیے اضافی 30 سے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور برانڈنگ تبدیل نہیں کی جائے گی۔ مجوزہ پلان کے مطابق اگلے چار برسوں میں پی آئی اے کے بیڑے کو 18 سے بڑھا کر 38 طیاروں تک لے جایا جائے گا۔ نجکاری میں صرف اسلام آباد، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کے چار بڑے دفاتر شامل ہوں گے، جبکہ ملکی و غیر ملکی جائیدادیں پی آئی اے ہولڈنگز کمپنی کو منتقل کر دی گئی ہیں۔
محدود بیڑے کے باوجود پی آئی اے نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 11.5 ارب روپے سے زائد قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے، جبکہ گزشتہ سال آمدن 26.2 ارب روپے رہی۔ ایئرلائن اس وقت بھی کینیڈا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اہم روٹس پر پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 32 طیارے ہیں، جن میں سے آدھے طیارے انجن اور پرزہ جات کی کمی کے باعث گراؤنڈ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ طیارے بھی آپریشنل ہوتے تو آمدن میں مزید 2 سے 3 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا تھا۔ قومی ایئرلائن اس وقت 30 سے زائد پاکستانی شہروں کو سروس فراہم کر رہی ہے، جبکہ 2029 تک اس نیٹ ورک کو 40 سے زیادہ شہروں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
حکومت کی تازہ کوشش گزشتہ برس کی ناکام نجکاری کے بعد سامنے آئی ہے، جب صرف ایک بولی بلو ورلڈ سٹی کی 10 ارب روپے کی پیشکش موصول ہوئی تھی، جو حکومت کے 85 ارب روپے کے کم از کم نرخ سے بہت کم تھی اور مسترد کر دی گئی۔ اپریل 2025 میں کمیشن نے عمل دوبارہ کھولا اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے 51 سے 100 فیصد شیئرز کے لیے کا اظہار طلب کیا۔
