شام کے صدر الشراعہ ہفتے کی دیر رات واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم مذاکرات کریں۔ یہ امریکہ میں کسی شامی رہنما کا سات دہائیوں بعد پہلا دورہ ہے۔ اس تاریخی دورے سے ایک روز قبل واشنگٹن نے الشراعہ کو “دہشت گرد” فہرست سے خارج کیا، جو امریکا اور شام کے تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
عہدیداروں کے مطابق دونوں رہنما پیر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے تاکہ شام کے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے کے امکانات پر بات ہو، جو داعش کے خلاف لڑ رہا ہے۔ یہ دورہ الشراعہ کی مئی میں ریاض میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے اور عالمی سطح پر شام میں استحکام کے بڑھتے ہوئے اقدامات کے درمیان ہوا۔
اسی دن شام کے وزارت داخلہ نے داعش کے نیٹ ورکس کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق حلب، ادلب، حماہ، حمص اور دمشق کے دیہی علاقوں میں 61 مشترکہ چھاپے مارے گئے، جن میں 71 افراد گرفتار ہوئے اور دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار ضبط کیے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی “دہشت گردی سے نمٹنے اور عوامی تحفظ یقینی بنانے” کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکی حکام شام اور اسرائیل کے درمیان نئے سیکیورٹی معاہدے کے تحت دمشق میں ایک ہوائی اڈے پر فوجی موجودگی قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام علاقائی استحکام کو مضبوط کر سکتا ہے اور شام کی تعمیر نو میں مدد فراہم کر سکتا ہے، جس کی لاگت عالمی بینک کے اندازے کے مطابق 216 ارب ڈالر ہے۔
الشراعہ، جن کا تعلق پہلے القاعدہ سے تھا، بعد میں انہوں نے حیات تحریر الشام (HTS) کی قیادت کی، جو داعش کے خلاف لڑنے والی ایک علیحدہ تنظیم ہے۔ امریکی حکومت نے جولائی میں انہیں دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے خارج کیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ان پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں، جس سے ان کی عالمی سفارتی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
یہ تیز رفتار پیش رفت الشراعہ کے امریکہ دورے کو شام کی بین الاقوامی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نیا موڑ بنا سکتی ہے۔
