ٹرمپ کا جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان، سرد جنگ جیسی کشیدگی دوبارہ جاگ اُٹھی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین دہائیوں بعد امریکہ میں جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان نے اتحادی ممالک میں بے چینی، حریف ریاستوں میں تشویش اور عالمی سلامتی کے ماہرین میں سخت اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ ہدایت ٹروتھ سوشل پر جاری ایک مبہم پیغام میں دی، جس میں انہوں نے نئے نام دیے گئے “ڈپارٹمنٹ آف وار” کو حکم دیا کہ وہ روس اور چین کے “برابر” جوہری ٹیسٹنگ کا آغاز کرے۔
ٹرمپ کے غیر واضح بیان نے گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق صدر نے معمول کے میزائل تجربات جن میں جوہری وارہیڈ شامل نہیں ہوتے کو ممکنہ طور پر اصل دھماکہ خیز جوہری تجربات کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، جو 1990 کی دہائی سے کسی بڑی طاقت نے نہیں کیے۔ یہی ابہام مستقبل میں بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی رہنماؤں اور ہتھیاروں کے کنٹرول کے ماہرین نے اس اعلان کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جوہری دھماکوں کا دوبارہ آغاز دنیا کے لیے شدید عدم استحکام کا سبب بنے گا۔ جامع تجربہ بندی معاہدے (CTBTO) کے سربراہ رابرٹ فلوئیڈ نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی جانب سے جوہری دھماکہ ’’بین الاقوامی امن اور عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے تباہ کن ہوگا‘‘۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی خبردار کیا کہ ’’جوہری ٹیسٹنگ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں‘‘ اور تاریخ کے 2,000 سے زائد تباہ کن تجربات کے زخم آج بھی موجود ہیں۔
امریکی اتحادی خصوصاً یورپ میں سخت مایوسی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ جوہری تجربات شروع کرتا ہے تو 1998 سے قائم عالمی پابندی کا سلسلہ ٹوٹ سکتا ہے خواہ امریکہ نے CTBT پر دستخط کیے ہوں، لیکن عدم توثیق کی وجہ سے معاہدہ اب بھی غیر فعال ہے۔
سلامتی کے تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ امریکہ نے ماضی میں 1,000 سے زائد تجربات کرکے وہ سائنسی برتری حاصل کر لی تھی جس کی بنیاد پر اسے مزید دھماکوں کی ضرورت نہیں۔ جدید سمیولیشن اور سب کریٹیکل ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکہ بغیر دھماکوں کے اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی چیک کر سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین کے مطابق نئے تجربات امریکہ کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں دیں گے، بلکہ عالمی نظام کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیں گے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد حریف ممالک نے بھی سخت ردعمل دیا۔ روس نے یاد دلایا کہ 1998 کے بعد کسی ملک نے جوہری تجربہ نہیں کیا، لیکن اگر امریکہ نے پہل کی تو ماسکو بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ چین نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ تجربات معطل رکھنے کے وعدے کی پاسداری کرے۔
ایران نے اسے ’’غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور خطرناک‘‘ قرار دیا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ چند ماہ قبل امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
یہ صورتحال سرد جنگ کی یادیں تازہ کر رہی ہے وہ دور جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جوہری مقابلہ دنیا کو تباہی کے دہانے تک لے گیا تھا۔ 1962 کا کیوبا میزائل بحران اس کشیدگی کی انتہا تھی، جس کے بعد دونوں طاقتوں نے تجربات محدود کرنے اور بالآخر روکنے کا راستہ اختیار کیا۔
1992 میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ پابندی کے بعد عالمی سطح پر جوہری ٹیسٹنگ کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا۔ 1997 کے بعد صرف شمالی کوریا نے چند تجربات کیے۔ یہ غیر رسمی پابندی تین دہائیوں سے برقرار ہے سفارتی دباؤ اور عالمی شعور نے اس اصول کو مضبوط رکھا۔
اسی تاریخی پس منظر میں ماہرین ٹرمپ کے فیصلے کو ’’تاریخی لاعلمی‘‘ اور ’’حکمتِ عملی کی کمزوری‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی کشیدہ حالات سے گزر رہی ہے، جوہری تجربات کی باتیں ایک نئی دوڑ کو جنم دے سکتی ہیں ایک ایسی دوڑ جس میں ماضی جیسے حفاظتی ڈھانچے اب موجود نہیں۔
دنیا بھر میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر یہ خطرناک مہم جوئی جاری رہی تو عالمی سلامتی کا توازن بگڑ سکتا ہے اور دنیا دوبارہ اُن گھٹن زدہ خوفناک دنوں کی طرف لوٹ سکتی ہے جنہیں سرد جنگ کہا جاتا ہے۔
