اسلام آباد — پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے اہم مذاکرات جاری ہیں، جس میں عالمی ادارے نے ملک کے ریونیو نیٹ کو بڑھانے کے لیے ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کو مزید ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ٹیکس ریلیف کے ان اقدامات میں بڑے پیمانے پر کمی کر کے اگلے مالیاتی سال کے دوران تقریباً 40 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کی توقع کر رہی ہے۔
ایک بڑے اسٹرکچرل بدلاؤ کے تحت حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کئی ٹیکس چھوٹ کی مدت میں 30 جون 2026 کے بعد توسیع نہیں کی جائے گی، اور آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں متعدد رعایتی اسکیموں کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد سابقہ وفاقی کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور صوبائی زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو حاصل انکم ٹیکس کی چھوٹ 30 جون کو ختم ہونے کا امکان ہے۔ یکم جولائی 2026 سے ان علاقوں میں کام کرنے والے افراد اور کمپنیاں ملک کے عام ٹیکس نظام (اسٹینڈرڈ ٹیکس رجیم) کے دائرہ کار میں آ جائیں گی۔
انکم ٹیکس کے ساتھ ساتھ حکومت ان علاقوں میں سیلز ٹیکس کی شرح میں بھی بتدریج اضافہ کر رہی ہے۔ فاٹا اور پاٹا میں مقامی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ ان علاقوں میں امپورٹ کیے جانے والے صنعتی خام مال پر بھی 12 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، قبائلی علاقوں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ اور بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کی رعایت بھی یکم جولائی 2026 سے ختم کر دی جائے گی۔
آئندہ بجٹ میں گرین انرجی کے شعبے کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت حکومت ماحول دوست گاڑیوں کے لیے دی گئی بڑی مراعات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے امپورٹ کیے جانے والے سی کے ڈی (CKD) کٹس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ یکم جولائی 2026 کو ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح، مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ملنے والا رعایتی 1 فیصد سیلز ٹیکس بھی صرف 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا۔ ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے رائج رعایتی سیلز ٹیکس نظام کو بھی ختم کیا جا رہا ہے اور ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے اس میں مزید توسیع زیرِ غور نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار ہونے والے زرعی سائلوز (اناج کے گوداموں) پر دستیاب ٹیکس چھوٹ بھی اسی تاریخ کو ختم ہو جائے گی۔
مالیاتی خسارے کو پورا کرنے اور آمدنی بڑھانے کے ایک اور بڑے اقدام کے طور پر، حکومت یکم جولائی 2026 سے پٹرولیم مصنوعات پر نافذ ‘کلائمیٹ سپورٹ لیوی’ کو دوگنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس لیوی کو 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کیے جانے کا امکان ہے۔ فنانس حکام کا تخمینہ ہے کہ اس ردوبدل سے اگلے مالی سال کے دوران 90 ارب روپے سے زائد کا ریونیو حاصل ہو سکے گا، جس سے پاکستان کو آئی ایم ایف فریم ورک کے تحت مقرر کردہ سخت ہداف کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
