ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری غیر اعلانیہ کشیدگی ایک بار پھر براہ راست مسلح تصادم میں بدل گئی ہے، جس نے اپریل میں قائم ہونے والی نازک خاموشی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
منگل کی علی الصبح اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تہران اور اصفہان کے قریب ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے فوری طور پر اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے اسے "درست اہداف” پر مبنی کارروائی قرار دیا، جس کا مقصد ایران کے میزائل بنانے والے کارخانے اور فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچانا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ابتدا میں نقصانات کو معمولی قرار دیا، تاہم بعد ازاں تین صوبوں میں فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کر دی گئی۔
یہ لبنان یا شام میں جاری پراکسی جنگ نہیں، بلکہ اپریل کے بعد سے دونوں طاقتوں کے درمیان ایک دوسرے کی سرزمین پر براہ راست حملوں کا پہلا واقعہ ہے۔ اس تازہ پیش رفت نے خطے کو ایک ایسی بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جسے روکنے کے لیے بین الاقوامی سفارت کار مہینوں سے کوشاں تھے۔
ایرانی ردعمل فوری اور شدید تھا۔ اسرائیلی طیاروں کی واپسی کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ "اسٹریٹجک صبر کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔” اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر میزائلوں کو ‘آئرن ڈوم’ اور ‘ایرو’ سسٹم کے ذریعے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم ہنگامی طبی خدمات نے نیگیو کے علاقے میں کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اپریل میں ہونے والی جنگ بندی پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی۔ یہ کشیدگی دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اگرچہ تب دونوں فریقین نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ اب وہ تمام "سرخ لکیریں” مٹ چکی ہیں جو تصادم کو روک رہی تھیں۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر بائیڈن کو صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے، تاہم امریکہ نے اسرائیلی حملے میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک عہدیدار نے کہا کہ "ہم کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں،” اگرچہ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
اس صورتحال کا عالمی برادری پر اثر فوری اور تشویشناک ہے۔ خبر کے منظر عام پر آتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ تاجروں کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کا خدشہ ہے۔ اردن اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک نے بھی احتیاطی طور پر اپنی فضائی حدود کے کچھ حصے بند کر دیے ہیں۔
صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ اگر تہران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں اپنے "فیصلہ کن ردعمل” کی دھمکی پر عمل کیا، تو سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کے تمام راستے بند ہو سکتے ہیں۔
