واشنگٹن — ایران نے اتوار کے روز یہ واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ فضائی حملوں میں حالیہ تعطل برقرار رکھے گا، ایران بھی پڑوسی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر اپنے تلافیانہ حملے روکے رکھے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں سے جاری شدید بمباری کو اچانک روکے جانے کے بعد تہران نے پینٹاگون کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ ان کی پالیسی ‘حملے کے بدلے حملہ’ پر مبنی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے، تاہم ایرانی حکام اس پیشرفت کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ مستقل امن کے بجائے امریکہ کی کوئی نئی جنگی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔
پانچ ماہ سے جاری اس جنگ میں آنے والا یہ اہم موڑ امریکی صدر کے مشیروں کے تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز اور سی این این کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس اور پینٹاگون کے چیف آف اسٹاف ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کا دفاع کرتے کرتے امریکی پیٹریاٹ ڈیفنس میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر ٹرمپ نے چودھویں رات کے فضائی حملے کا پلان مسترد کیا۔ اس دو ہفتوں کی لڑائی نے جون میں ہونے والے عارضی معاہدے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کر کے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مئی 2025 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
