اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی جانب سے نئے مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس اعظم خان نے کی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور وکلاء کی بڑی تعداد بھی عدالت میں موجود تھی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون نے رات احاطہ عدالت میں گزاری ہے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ صورتحال ان کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پرانا مقدمہ تھا تو پہلے ہی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی تھی۔
کامران مرتضیٰ نے عدالت سے استدعا کی کہ حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو ہدایت کی جائے کہ اگر کوئی اور مقدمہ موجود ہو تو سامنے آنے تک کسی دوسرے کیس میں گرفتاری نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار ملک دشمن نہیں ہیں اور اس عمارت میں جتنا حق عدالت کا ہے اتنا ہی ان کا بھی ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ جو ایف آئی آر عدالت کے سامنے ہے اس کی حد تک ہی حکم دیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو اس مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا۔
