کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں منگل کی شب ڈکیتی کی ایک واردات اس وقت خونی انجام تک پہنچی جب ایک رہائشی نے گھر میں داخل ہونے والے مسلح ملزمان پر جوابی فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کا ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس حکام کے مطابق، مقتول ڈاکو علاقے کا ایک عادی مجرم تھا جس کے قبضے سے 30 بور کا پستول برآمد ہوا ہے۔ گھر کے مالک نے جائے وقوعہ پر ہی پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرایا اور بتایا کہ ملزمان نے نہ صرف لوٹ مار کی کوشش کی بلکہ اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی تھانے کے افسر نے کہا کہ "متاثرہ شہری نے واضح کیا کہ وہ لڑائی نہیں چاہتا تھا، لیکن اپنے گھر اور اہل خانہ کے تحفظ کے لیے اسے جوابی اقدام کرنا پڑا۔”
کراچی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سٹیزن-پولیس لائژن کمیٹی (CPLC) کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلح ڈکیتی کے واقعات شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، جن میں مزاحمت کی صورت میں پرتشدد جھڑپیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔
پولیس نے فرار ہونے والے دوسرے ملزم کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ قانون کے مطابق، کسی بھی شخص کو اپنی جان اور مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی صورتحال میں طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، اسی لیے پولیس نے تاحال رہائشی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔
اورنگی ٹاؤن کے مکینوں کے لیے یہ واقعہ اس شہر کی تلخ حقیقت کا عکاس ہے جہاں اب شہری خود اپنے محافظ بننے پر مجبور ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں اب قریبی دکانوں اور گھروں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مفرور ملزم کی شناخت کرنے میں مصروف ہیں۔
مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے حکومتی دعووں کے باوجود، شہریوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت کیے جانے والے یہ اقدامات سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
