امریکہ نے منگل کی صبح ایران کے فوجی تنصیبات پر فضائی حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایرانی ڈرون اور میزائل لانچ کرنے کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ تہران نے چند گھنٹوں کے اندر ہی جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ اقدام دنیا کی سب سے اہم تیل کی شاہراہ کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر کھپت ہونے والے پیٹرولیم کا تقریباً 20 فیصد اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی؛ برینٹ کروڈ آئل کے سودے 8 فیصد تک مہنگے ہو گئے، جو 2022 کے توانائی بحران کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے مختصر بریفنگ میں کہا کہ "ہم نے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائی کی ہے۔” انہوں نے ہلاکتوں یا حملوں کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی اور اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ امریکہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے کیا لائحہ عمل اپنائے گا۔
تہران میں سرکاری ٹیلی ویژن پر بحری جہازوں کو دفاعی پوزیشنیں سنبھالتے ہوئے دکھایا گیا۔ سپریم لیڈر کے دفتر سے جاری پیغام واضح تھا: آبنائے تب تک بند رہے گی جب تک "جارحیت کے تمام اقدامات بند نہیں ہو جاتے۔” ایرانی حکام طویل عرصے سے اس راستے کو بند کرنے کی دھمکی دیتے آئے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے براہِ راست تصادم کی صورتحال میں اس دھمکی پر عمل کیا ہے۔
خلیجی ریاستیں اس آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہنگامی دفاعی پروٹوکول نافذ کر دیے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر جوابی ڈرون حملوں کا خدشہ ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر ہی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، اور سرمایہ کاروں نے علاقائی ناکہ بندی کے خدشے کے پیش نظر تیزی سے اثاثے فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔
بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بحری کمانڈروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی تیز رفتار کشتیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں، جو ماضی میں اس خطے میں تجارتی جہازوں کو تنگ کرتی رہی ہیں۔
پس پردہ سفارتی رابطے تیز ہو چکے ہیں۔ یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے تحمل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ آبنائے کی طویل بندش عالمی کساد بازاری کو جنم دے سکتی ہے۔ فی الحال، تمام آئل ٹینکرز لنگر انداز ہیں اور تیل کی سپلائی مکمل طور پر رک چکی ہے۔
اصل خطرہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں، بلکہ کسی غلط فہمی کا امکان ہے۔ جب دونوں ممالک کے جنگی جہاز ایک ہی محدود آبی حدود میں آمنے سامنے ہوں، تو غلطی کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔
