برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی حالیہ مقامی اور علاقائی انتخابی ناکامیوں کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ وہ عہدہ چھوڑ کر “ملک کو افراتفری میں” نہیں دھکیلیں گے، حالانکہ پارٹی کے اندر ان پر دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
یہ بحران صرف ایک خراب انتخابی رات تک محدود نہیں رہا۔ انگلینڈ کے مقامی انتخابات میں لیبر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ ریفارم یو کے نے نمایاں پیش رفت کی۔ اسی دوران اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی لیبر کی سیاسی پوزیشن کمزور دکھائی دی، جس کے بعد اسٹارمر کی قیادت پر کھلی بحث شروع ہو گئی۔
پارٹی کے اندر بے چینی اب چھپائے نہیں چھپ رہی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر رپورٹس کے مطابق متعدد لیبر ارکانِ پارلیمان اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ کیتھرین ویسٹ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر قیادت نے راستہ نہ بدلا تو وہ لیڈرشپ چیلنج شروع کرنے کی کوشش کریں گی۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق قریب 40 ارکان یا تو فوری استعفے یا پھر روانگی کا ٹائم ٹیبل چاہتے ہیں۔
اسٹارمر کا مؤقف یہ ہے کہ ووٹروں نے حکومت کو رفتار تیز کرنے اور لوگوں کی زندگیوں میں واضح بہتری لانے کا پیغام دیا ہے، نہ کہ لازماً قیادت بدلنے کا۔ انہوں نے انتخابی نتائج کو “بہت سخت” تسلیم کیا اور ذمہ داری بھی قبول کی، مگر ساتھ ہی یہ اصرار کیا کہ ان کے پاس ملک بدلنے کا مینڈیٹ موجود ہے اور وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
لیبر کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ قیادت کی تبدیلی کا راستہ صاف نہیں دکھ رہا۔ اینجلا رینر کی جانب سے پارٹی کی سمت بدلنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ ویس اسٹریٹنگ کا نام ممکنہ متبادل کے طور پر گردش میں ہے۔ اینڈی برنہم کا ذکر بھی ہو رہا ہے، لیکن وہ اس وقت پارلیمان کے رکن نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹارمر کے ناقدین کے پاس غصہ تو بہت ہے، مگر ایک متفقہ متبادل اب تک سامنے نہیں آیا۔
فی الحال اسٹارمر کی حکمتِ عملی مزاحمت ہے، پسپائی نہیں۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں، جن میں گورڈن براؤن اور ہیریئٹ ہارمن شامل ہیں، سے مشاورت شروع کی ہے تاکہ سیاسی نقصان کو روکا جا سکے اور حکومت کے لیے نئی سمت طے کی جا سکے۔ لیکن ویسٹ منسٹر میں اصل سوال بدستور وہی ہے: کیا یہ انکار اسٹارمر کو بچا لے گا، یا صرف بحران کو چند دن اور آگے دھکیل دے گا؟
