میامی کے ہارڈ راک اسٹیڈیم میں منعقدہ فارمولا ون گراں پری کے دوران اتوار کو تمام تر توجہ ریس ٹریک کے بجائے اس وقت پٹ لین کی جانب مبذول ہو گئی، جب لیونل میسی اپنی اہلیہ اینٹونیلا روکوزو کے ہمراہ وہاں پہنچے۔
انٹر میامی کے کپتان کی آمد نے ایونٹ کے ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا۔ میسی اپنے ساتھی کھلاڑیوں لوئیس سواریز اور سرجیو بسکیٹس کے ساتھ موجود تھے، جنہوں نے محض ایک روز قبل ہی نیویارک ریڈ بُلز کے خلاف 6-2 کی شاندار فتح حاصل کی تھی۔
میسی کی موجودگی محض ایک عام ‘سیلیبریٹی اپیئرنس’ نہیں تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میامی میں میسی کے آنے کے بعد کھیلوں کا منظرنامہ کتنا بدل چکا ہے۔ اگرچہ اس تقریب میں پیٹرک مہومز، زین الدین زیدان اور ٹریوس کیلسی جیسی عالمی شخصیات بھی موجود تھیں، لیکن میسی کا رعب اور ان کے گرد مداحوں کا ہجوم باقی سب پر بھاری رہا۔
میسی سفید شرٹ اور سیاہ پتلون میں انتہائی پرسکون دکھائی دیے، جبکہ اینٹونیلا نے جینز کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ پیڈاک کے اندر مداحوں اور فوٹوگرافروں کا ایک جم غفیر تھا جو آٹھ بار کے بیلن ڈی اور فاتح کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ چند گھنٹوں کے لیے ریس کے تکنیکی پہلو، ٹائروں کی کارکردگی اور انجن کی آوازیں پسِ پشت چلی گئیں اور ساری توجہ اس شخص پر مرکوز رہی جس نے امریکی فٹ بال لیگ (MLS) کی مقبولیت کو ایک نئی بلندی دی ہے۔
ریس کے نتائج کی بات کریں تو لینڈو نورس نے اپنی پہلی جیت کا اعزاز حاصل کیا، لیکن ایونٹ کی سب سے بڑی خبر ‘میسی ایفیکٹ’ رہی۔ میسی کی موجودگی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ میامی اب صرف فارمولا ون کے کیلنڈر کا ایک حصہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے عالمی اسپورٹس کلچر کا مرکز بن چکا ہے جس کا محور میسی کی ذات ہے۔
فارمولا ون کا کارواں اب اگلے پڑاؤ یعنی ایمولا کی طرف روانہ ہو رہا ہے، جبکہ میسی واپس اپنی کلب ٹیم کے ساتھ مصروف عمل ہوں گے، جو اس وقت ایسٹرن کانفرنس میں سرفہرست ہے۔ میامی کے اس شہر میں، جہاں اب میسی کا طوطی بولتا ہے، وہ ایک فاتح کی طرح آئے اور اسی شان کے ساتھ رخصت ہوئے۔
