میر رضا علی کے لواحقین نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کی رات جاری کردہ ایک بیان میں خاندان کے ترجمان نے اس کمیشن کو انصاف کی فراہمی کے بجائے محض "وقت گزاری کا حربہ” قرار دیا۔
یہ اعلان صوبائی حکومت کی جانب سے انکوائری کے اعلان کے 48 گھنٹوں کے اندر سامنے آیا ہے۔ اہل خانہ کا موقف ہے کہ ماضی میں ایسے ہائی پروفائل کیسز میں بننے والے کمیشنز کسی نتیجے پر نہیں پہنچے، بلکہ ان کا مقصد صرف طاقتور حلقوں کو بچانا رہا ہے۔
خاندان کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں ایسی کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں جو الماریوں کی زینت بنے۔ ہمیں جائے وقوعہ کی فوٹیج اور ڈیوٹی پر موجود افسران کے نام چاہئیں۔ کمیشن ہمیں یہ حقائق نہیں دے سکتا۔”
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندان کا عدم اعتماد موجودہ تحقیقاتی نظام کی خامیوں کا عکاس ہے۔ کمیشن کو مسترد کر کے لواحقین نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس سے توجہ اب رسمی کارروائیوں سے ہٹ کر ٹھوس شواہد اور شفافیت کے مطالبے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ کمیشن کا قیام "غیر جانبدارانہ تحقیقات” کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمیشن کے پاس ریکارڈ طلب کرنے اور گواہان کو بلانے کا اختیار ہوگا، جو سچ تک پہنچنے کا واحد قانونی راستہ ہے۔
تاہم، لواحقین اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر یہ کمیشن ختم نہ کیا گیا تو وہ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کریں گے۔ ان کے نزدیک حکومت کی یہ کوشش حقائق تک پہنچنے کے لیے نہیں، بلکہ عوامی ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔
حکومت اب ایک مشکل صورتحال میں ہے۔ ایک طرف ایسا کمیشن ہے جسے متاثرین کا اعتماد حاصل نہیں، اور دوسری طرف ایک ایسی قانونی جنگ کا خطرہ جو اس کیس کو طویل عرصے تک خبروں کی سرخیوں میں رکھے گی۔
