امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں لڑائی رکنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جنگی کشیدگی میں عارضی کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں فوری رکاوٹ کے خطرات بھی کم محسوس کیے گئے۔
تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اس وقت ہوئی جب تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے امکانات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ کشیدگی میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم بھی کم ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔
تاجروں کی نظریں اب امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آ سکتی ہے۔ تیل کی پیداوار، ترسیل اور برآمدات میں ممکنہ رکاوٹیں اب بھی عالمی مارکیٹ کے لیے بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، کیونکہ درآمدی اخراجات میں کمی سے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ اب بھی خطے میں ہونے والی کسی بھی نئی پیش رفت کے لیے انتہائی حساس ہے۔
سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا لڑائی میں عارضی وقفہ وسیع تر سفارتی کوششوں کا باعث بنتا ہے یا کشیدگی دوبارہ بڑھ جاتی ہے۔ صورتحال میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔
