وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کے تیل بردار جہازوں کے باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ سے بحفاظت گزرنے کے بعد آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان کے لیے درآمد کیے جانے والے خام تیل کے کارگو بحفاظت اپنی منزل کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس سے ایندھن کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے، اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم پاکستان کے تیل بردار جہازوں کے اس اہم راستے سے محفوظ گزرنے کے بعد درآمدی سپلائی کے حوالے سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں اور شپنگ و فریٹ کے اخراجات مزید کم ہوئے تو آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے وقت عوام کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور درآمدی لاگت کا مسلسل جائزہ لے کر مقامی قیمتوں کا فیصلہ کرتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو پاکستان کے درآمدی بل میں کمی آئے گی، مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ کمی ہو سکتی ہے اور ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور عام صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ اور خطے کی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔
حکومت متعلقہ اداروں کی سفارشات اور عالمی منڈی کے رجحانات کا جائزہ لینے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔
