کراچی: پاکستان نے ایتھوپیا میں حائلی گبی آتش فشاں کے بڑے دھماکے کے بعد فضا میں بلند ہوتی آتش فشانی راکھ کے باعث اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ وولکینک ایش ایڈوائزری جاری کر دی ہے، محکمہ موسمیات نے پیر کو تصدیق کی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا میں گوادر کے جنوبی علاقے سے تقریباً 60 بحری میل دور آتش فشانی راکھ کا پھیلاؤ دیکھا گیا، جو کہ 45 ہزار فٹ کی اونچائی پر موجود ہے — یعنی وہ بلندی جہاں بین الاقوامی پروازیں عموماً سفر کرتی ہیں۔
ہوابازی کے ماہر انجم نذیر زئیغم نے بتایا کہ راکھ کے ساتھ پروازوں کے انجن کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ بین الاقوامی طیارے عموماً 40 سے 45 ہزار فٹ جبکہ اندرونِ ملک پروازیں 34 سے 36 ہزار فٹ کی بلندی پر سفر کرتی ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کراچی یا پاکستان کے کسی شہری علاقے کے لیے کوئی ماحولیاتی یا فضائی خطرہ درپیش نہیں کیونکہ راکھ سمندر کے اوپر اور کافی زیادہ اونچائی پر موجود ہے۔ صورتِ حال کی مسلسل نگرانی جاری ہے تاکہ پروازوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
ایتھوپیا کے افار ریجن میں واقع حائلی گبی آتش فشاں تقریباً 12 ہزار سال بعد پہلی مرتبہ پھٹا ہے، جہاں سے دھوئیں اور راکھ کے بڑے بادل 14 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گئے۔ یہ علاقہ مشرقی افریقہ کے ریفٹ ویلی میں شامل ہے جو شدید ارضیاتی تبدیلیوں کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔
عالمی مانیٹرنگ سینٹرز کے مطابق راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور شمالی پاکستان کی فضائی حدود تک بھی پہنچے ہیں۔ سائنس دانوں نے اس واقعے کو تاریخی قرار دیا ہے کیونکہ آتش فشاں کے ہولوسین دور میں کسی بھی سرگرمی کا ریکارڈ موجود نہیں۔
ایتھوپین حکام نے ابھی تک جانی یا مالی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ پاکستان کی سول ایوی ایشن اور موسمیاتی ادارے چوکس ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔
