جرمنی نے جیوتھرمل توانائی اور صاف ستھری حرارتی نظام کی توسیع کے لیے تیزرفتار قانون تجویز کر دیا
برلن: ماحولیاتی طور پر مؤثر حرارتی نظام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے، جرمنی کی وزارتِ معیشت نے جمعہ کو ایک مسودہ قانون پیش کیا ہے جس کا مقصد جیوتھرمل توانائی اور دیگر صاف توانائی سے چلنے والے حرارتی نظاموں کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ یہ اقدام جرمنی کے اُس ہدف کا حصہ ہے جس کے تحت وہ 2045 تک حرارتی نظاموں میں فوسل فیولز (روایتی ایندھن) کا استعمال ختم کرنا چاہتا ہے۔
تجویز کردہ قانون جیوتھرمل پلانٹس، ہیٹ پمپس، تھرمل اسٹوریج، اور حرارتی پائپ لائنوں کے لیے منظوری کے عمل کو آسان بناتا ہے، کیونکہ ان منصوبوں کو "عوامی مفاد میں انتہائی اہم” قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ پہلے ہوا اور شمسی توانائی کو یہ درجہ دیا جا چکا ہے۔ اس قانون میں کان کنی، ماحولیاتی، اور پانی سے متعلق قوانین میں تبدیلی لا کر اجازت ناموں کے عمل کو بھی تیز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اہم تبدیلیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ کان کنی کے متعلقہ حکام کو منصوبوں کی منظوری کے لیے مقررہ مدت دی جائے گی اور مخصوص حالات میں وہ کچھ تکنیکی تقاضے معاف کر سکیں گے۔ مزید برآں، حکام کمپنیوں سے یہ مطالبہ بھی کر سکیں گے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ماحولیاتی یا کان کنی سے متعلق نقصان کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کریں۔
جرمنی یورپ کے سب سے بڑے جیوتھرمل ذخائر میں سے ایک کا حامل ہے۔ 2023 میں فراؤن ہوفر انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق، یہ ذخائر جرمنی کی سالانہ حرارتی ضروریات کا 25 فیصد سے زائد حصہ پورا کر سکتے ہیں۔ تاہم، اب تک اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو سخت ضوابط اور مقامی مخالفت کے باعث تاخیر کا سامنا رہا ہے۔
یہ قانون ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے باعث جیوتھرمل سرمایہ کاری میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے، اور جرمنی کو اپنے بلڈنگ سیکٹر میں کاربن کے اخراج میں فوری کمی لانے کی ضرورت ہے جہاں حرارتی نظام سب سے بڑا آلودگی کا سبب ہیں۔
اگر یہ قانون وفاقی کابینہ اور دونوں ایوانوں سے منظور ہو جاتا ہے، تو امکان ہے کہ یہ اگلے سال کے آغاز میں نافذالعمل ہو جائے گا۔
