ویلنگٹن، 8 اگست 2026: پاکستان اور نیوزی لینڈ نے زراعت، تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور نیوزی لینڈ کی تیسری مشترکہ تجارتی کمیٹی (JTC) کا اجلاس اور پانچویں دور کی سیاسی مشاورت جمعرات کو ویلنگٹن میں ہوئی، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
اجلاس کا اہم نتیجہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلیم کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون مزید گہرا ہونے کی توقع ہے۔
مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور پائیدار زراعت میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ فریقین نے اون کی پیداوار اور پودوں کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تکنیکی تعاون کے امکانات بھی تلاش کیے۔
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں ٹیکنالوجی، تعلیم اور خدمات کے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
اجلاس میں اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے تجارت کے سیکریٹری جواد پال خواجہ نے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں نمائندگی کی، جبکہ نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ و تجارت کے امریکا اور ایشیا گروپ کے ڈپٹی سیکریٹری گراہم مورٹن نے نیوزی لینڈ کے وفد کی قیادت کی۔
سیاسی مشاورت کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی صورتحال پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ دونوں جانب سے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے ایشیا پیسیفک سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے پاکستانی وفد کی مشترکہ قیادت کی جبکہ گراہم مورٹن نے نیوزی لینڈ کے وفد کی قیادت کی۔
دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے روابط، اقتصادی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی جرائم اور عوامی روابط سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
سفیر گیلانی نے نیوزی لینڈ کے حکام کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق گراہم مورٹن نے مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
پاکستانی وفد نے جنوبی ایشیا کی صورتحال، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ مسلسل خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لینے، تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور مستقبل پر مبنی باہمی مفاد کی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ملا۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک دولت مشترکہ کے رکن ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 12 ملین ڈالر ہے۔ پاکستان کی نیوزی لینڈ کو بڑی برآمدات میں ٹیکسٹائل مصنوعات، ملبوسات، چاول، چمڑے کی اشیا اور کھیلوں کا سامان شامل ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ سے درآمدات میں ڈیری مصنوعات، لکڑی کا گودا، کاغذ، خوردنی تیل، لکڑی، لوہا و اسٹیل اور برقی مشینری شامل ہیں۔
