پاکستانی ٹیلی پلے گِدھ رواں سال کینیڈا میں ہونے والے موسائیک انٹرنیشنل ساوتھ ایشین فلم فیسٹیول (MISAFF) میں اپنا ورلڈ پریمیئر کرے گا۔ یہ فیسٹیول 24 سے 30 نومبر 2025 تک کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں منعقد ہو رہا ہے اور جنوبی ایشیا کی سنجیدہ، جدید اور سماجی طور پر بامعنی فلموں کے انتخاب کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچان رکھتا ہے۔
اس ٹیلی پلے کو لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہے کنول خوصٹ نے، جبکہ پروڈیوسرز میں سرمد خوصٹ اور اسل باقا شامل ہیں۔ مرکزی کردار جائے لینڈ سے عالمی شہرت پانے والی راستی فاروق اور باصلاحیت اداکارہ ثنا جعفری نے نبھائے ہیں۔ یہ انتخاب پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ عالمی فلمی میلوں میں ٹیلی پلے فارمیٹ کی نمائندگی اب بھی کم نظر آتی ہے، اور گِدھ کی شمولیت اس خلا کو کم کرنے کی جانب ایک بھرپور قدم ہے۔
کہانی ایک شادی شدہ عورت کے گرد گھومتی ہے جو گھر میں اکیلی ہوتی ہے کہ اچانک دروازہ کھلتا ہے۔ سامنے ایک نوجوان لڑکی موجود ہے جو اپنے تعارف میں ایک خیالی جگہ "نقشاپور” کا ذکر کرتی ہے۔ بظاہر معمول کی چائے پر ہونے والی گفتگو جلد ہی ذرا تلخ، پھر عجیب اور پھر غیرمتوقع موڑ اختیار کر لیتی ہے۔ کرداروں کے درمیان پنپنے والی خاموش کشمکش، لفظوں کے درمیان چھپے اشارے اور فضا میں موجود بے چینی گِدھ کے عنوان کی معنویت کو رفتہ رفتہ واضح کرتے ہیں۔
MISAFF کی تاریخ ایسے کام کو سراہنے کی رہی ہے جو کرداروں، رشتوں اور معاشرتی ذہنی کیفیتوں کی تہوں میں جھانکنے کی کوشش کرے۔ اسی لیے منتظمین کی جانب سے گِدھ کو منتخب کیا جانا نہ صرف خوصٹ خاندان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ پاکستانی اسکرین انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی تنوع اور ہمت کا ثبوت بھی ہے۔
ٹیلی پلے کی مختصر مگر بھرپور جھلک (ٹیزر) پہلے ہی سوشل میڈیا پر تجسس پیدا کر چکی تھی۔ کوئی بلند و بانگ موسیقی نہیں، نہ ہی بڑے رنگین شاٹس۔ صرف ایک گھر، دو کردار اور ایک گفتگو جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ناظر کو اپنے اندر کھینچتی جاتی ہے۔ اسی کم سے کم اسلوب (minimalism) نے اسے دیگر پاکستانی پروڈکشنز سے نمایاں کیا ہے۔
پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے کئی ناقدین کے مطابق اس انتخاب سے پاکستانی تخلیق کاروں کو بین الاقوامی سطح پر مزید مواقع ملیں گے۔ خاص طور پر ایسی کہانیاں جو روایتی ٹی وی فارمولے سے ہٹ کر اپنے ماحول، کردار اور موضوعات کے ذریعے نیا تاثر قائم کرنا چاہتی ہیں۔
فیسٹیول حکام جلد ہی گِدھ کی اسکریننگ کی درست تاریخ اور ممکنہ سوال و جواب سیشن کا اعلان کریں گے۔ تاہم ایک بات صاف ہے: یہ ٹیلی پلے خاموشی سے، بغیر کسی شور کے، عالمی اسکرین پر وہ جگہ حاصل کر چکا ہے جو پاکستان میں تخلیقی کام کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
