واشنگٹن: فون کالز کے ذریعے ملازمین کو دھوکا دے کر سائبر حملے کرنے والے ہیکرز نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکا کے متعدد بڑے مالیاتی اداروں اور دیگر کاروباری کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
گوگل اور انٹرنیٹ انٹیلی جنس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق حملہ آوروں نے خاص طور پر نجی سرمایہ کاری کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور دیگر کاروباری تنظیموں کے ملازمین کو ہدف بنایا اور ان کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جعلی ویب سائٹس تیار کیں۔
نشانہ بننے والی کمپنیوں میں بلیک اسٹون، برج واٹر ایسوسی ایٹس، اپولو گلوبل مینجمنٹ، بین کیپیٹل، کے کے آر، ٹی پی جی، سی ایم ای گروپ، کلیئر لیک کیپیٹل اور موڈیز سمیت کئی دیگر ادارے شامل ہیں۔
گوگل کے مطابق اس سائبر مہم میں مبینہ طور پر ریڈیکٹ، پنک، فالکن اور ہیلیکس سمیت مختلف نام استعمال کرنے والے گروپس سرگرم ہیں۔ گوگل نے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے حملہ آوروں کو تاوان بھی ادا کیا، تاہم ان اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے حالیہ عرصے میں نجی ایکویٹی کمپنیوں، قانونی اداروں اور مالیاتی ریٹنگ ایجنسیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جہاں بڑی مقدار میں حساس مالیاتی اور کاروباری معلومات موجود ہوتی ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق جدید سکیورٹی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجی کے باوجود روایتی انسانی فریب کاری پر مبنی طریقے اب بھی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
گوگل کے مطابق حملہ آور ملازمین کے ذاتی موبائل نمبرز پر رابطہ کرکے خود کو متعلقہ کمپنی کے آئی ٹی یا ہیلپ ڈیسک کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔ بعض معاملات میں کال ایسے نمبر سے موصول ہوتی تھی جو کمپنی کے حقیقی ہیلپ ڈیسک نمبر سے مماثلت رکھتا تھا، جس سے دھوکا مزید قابلِ یقین بن جاتا تھا۔
ملازمین کو مبینہ طور پر بتایا جاتا تھا کہ انہیں فوری سکیورٹی اپ ڈیٹ یا اکاؤنٹ سے متعلق ضروری کارروائی مکمل کرنی ہے، جس کے بعد انہیں جعلی ویب سائٹس کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ ان ویب سائٹس کا مقصد صارفین سے حساس لاگ اِن معلومات حاصل کرنا تھا۔
گوگل کے تھریٹ انٹیلی جنس گروپ سے وابستہ تجزیہ کار آسٹن لارسن کے مطابق یہ طریقہ تکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدہ نہیں، تاہم انسانی رویوں اور اعتماد کو نشانہ بنانے کی وجہ سے مؤثر ثابت ہوا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے جائزہ لیے گئے ڈیٹا کے مطابق ہیکرز نے صرف تقریباً پانچ ہفتوں کے دوران 200 سے زائد کمپنیوں کے لیے مخصوص آن لائن انفراسٹرکچر اور جعلی ڈیجیٹل صفحات تیار کیے۔
ان کمپنیوں میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ادارے شامل تھے، جن میں آن لائن ٹرانسپورٹ کمپنی اوبر، آن لائن بروکریج پلیٹ فارم زیلو اور ملبوسات کی کمپنی لیوی اسٹراؤس کے علاوہ قانونی ادارے پال ہیسٹنگز اور گرین برگ ٹروریگ بھی شامل ہیں۔
گرین برگ ٹروریگ نے کہا کہ کمپنی کو ڈیٹا لیک کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور اس کی سکیورٹی کے متعدد اقدامات نے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھا۔
اس سائبر مہم نے امریکی مالیاتی مارکیٹ میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پوائنٹ 72 ایسیٹ مینجمنٹ نے اپنے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ کمپنی کو ہیکرز نے نشانہ بنایا، جبکہ ٹو سگما انویسٹمنٹس اور سٹاڈل سمیت دیگر سرمایہ کاری اداروں کے خلاف بھی مبینہ طور پر سائبر حملے کی کوششیں کی گئیں۔
گوگل کے مطابق مختلف نام استعمال کرنے والے سائبر گروپس کے درمیان بعض مشترکہ تکنیکی ذرائع اور انفراسٹرکچر کے شواہد ملے ہیں، تاہم ان گروپس کی اصل شناخت اور باہمی تعلق کے بارے میں اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ترین حفاظتی نظام رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بھی انسانی غلطی اور دھوکا دہی ایک بڑا خطرہ ہے۔
ماہرین نے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملازمین میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی بڑھانے کے ساتھ ساتھ شناخت کی تصدیق اور مشکوک رابطوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنائیں۔
