کراچی: نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات کرنے والی کراچی پولیس نے ان کے والدین کے درمیان طلاق کے مقدمے سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق میر رضا علی کی والدہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا، جس کے بعد عدالت نے انہیں یکطرفہ طلاق دے دی۔ درخواست میں والدہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے شوہر گھر کے اخراجات اور مالی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق والدین کی علیحدگی کے بعد میر رضا اور ان کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے۔ تفتیشی حکام اب طلاق کے ریکارڈ، خاندانی تنازعات اور مالی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ میر رضا کی موت کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جاسکیں۔
اس سے قبل میر رضا کے والد میر حسین سے منسوب ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی تھی، جس میں وہ نور نامی شخص سے قرض واپس کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں۔
مبینہ آڈیو میں میر حسین کا کہنا تھا کہ کراچی میں ان کا کاروبار اور گھر ختم ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں انہیں ایک اچھی تنخواہ والی ملازمت مل گئی۔
انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ اسلام آباد میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور رقم واپس کردیں گے۔ آڈیو میں ان سے منسوب بیان کے مطابق، "میں رقم کا انتظام کر رہا ہوں۔ اگر میرا ارادہ رقم واپس کرنے کا نہ ہوتا تو میں آپ سے رابطہ ہی نہ کرتا۔”
پولیس کی جانب سے خاندانی اور مالی معاملات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کیس میں مزید حقائق سامنے آسکیں۔
