انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) نے پولیس اہلکاروں کے آٹزم میں مبتلا بچوں کے ماہانہ تعلیمی وظیفے میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اب یہ وظیفہ 20 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ادا کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث ہے جو طویل عرصے سے مہنگائی کے دور میں بچوں کی خصوصی تعلیم اور تھراپی کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار تھے۔ پرانے وظیفے کی رقم اتنی قلیل تھی کہ اس سے بچوں کے لیے درکار خصوصی اساتذہ یا تھراپسٹ کی فیسوں کا بندوبست کرنا بھی ناممکن تھا۔
محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے اس اقدام پر بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنے جوانوں کے گھروں میں موجود ان خصوصی بچوں کی ضروریات سے آگاہ ہیں۔ یہ رقم صرف ایک مالی مدد نہیں، بلکہ ان بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک کوشش ہے۔”
نئی پالیسی کا اطلاق فورس کے تمام رینکس پر ہوگا۔ وظیفے کے حصول کے لیے اہلکاروں کو مستند میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تشخیصی سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے درخواستوں کی وصولی شروع کر دی ہے اور نئی شرح کا اطلاق آئندہ ماہ کی تنخواہ سے ہوگا۔
اگرچہ اس اضافے کو پولیس حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، لیکن فلاحی تنظیموں کا ماننا ہے کہ صرف مالی امداد کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پولیس لائنز اور بڑے شہروں میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے سرکاری سطح پر خصوصی تعلیمی مراکز بھی قائم کرنے چاہئیں۔
اس وظیفے کے لیے اہلکار اپنے متعلقہ ضلعی ویلفیئر دفاتر میں درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ ایک سے زائد بچوں کی صورت میں بھی ہر بچے کے لیے علیحدہ وظیفہ دیا جائے گا، بشرطیکہ ہر بچے کی کلینیکل تشخیص تصدیق شدہ ہو۔
ایک کانسٹیبل کی تنخواہ میں 20 ہزار روپے کا یہ اضافہ ان خاندانوں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو اب تک نجی تھراپی کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ محکمہ پولیس اب اس اقدام کے اثرات کا جائزہ لے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر مستقبل میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
