بحر الکاہل میں واقع چھوٹے جزیروں کے لیے سمندری پانی کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ سمندروں کے گرم ہونے سے مچھلیوں کی نقل مکانی کا عمل تیز ہو گیا ہے، جس سے ان جزیروں کی بنیادی خوراک اور معیشت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
کریباتی، ناورو اور تووالو جیسے ممالک کی معیشت اور خوراک کا انحصار بڑی حد تک ماہی گیری پر ہے۔ مقامی آبادی اپنی پروٹین کی ضرورت کا 90 فیصد حصہ سمندر سے حاصل کرتی ہے۔ اب مچھلیوں کے بڑے ذخائر—خاص طور پر ٹونا—ٹھنڈے پانیوں کی تلاش میں ان جزیروں کی حدود سے دور جا رہے ہیں۔ یہ محض ماحولیاتی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسی معاشی تباہی ہے جس کا سامنا ان جزیروں کو اگلے چند دہائیوں میں کرنا پڑے گا۔
ماہی گیری کے امور کے ماہر ڈاکٹر جوہن بیل کا کہنا ہے کہ "سمندر عملی طور پر اپنی جگہ بدل رہا ہے۔ مچھلیاں سرحدوں کی پابند نہیں، لیکن ان پر انحصار کرنے والی معیشتیں یقیناً ہیں۔”
صورتحال صرف خالی تھالیوں تک محدود نہیں ہے۔ ان ممالک کا ایک بڑا بجٹ غیر ملکی جہازوں کو مچھلی پکڑنے کے لائسنس بیچ کر چلتا ہے۔ جیسے جیسے مچھلی کے ذخائر بین الاقوامی سمندری حدود میں منتقل ہوں گے، ان حکومتوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ کچھ اندازوں کے مطابق 2050 تک ان جزیروں کی قومی آمدنی میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
مقامی منڈیوں میں اس کا اثر ابھی سے نمایاں ہے۔ جب مقامی مچھلی دستیاب نہیں ہوتی، تو لوگ مہنگی اور غیر معیاری درآمدی خوراک پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو پہلے ان جزیروں میں بہت کم تھیں۔
حکومتیں سمندری حدود کے نئے معاہدوں اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں، لیکن عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار سفارتی کوششوں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ متبادل کے طور پر ایکوا کلچر یا گہرے سمندر میں مچھلی پکڑنے کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے جس سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، وہ ان چھوٹے ممالک کے پاس نہیں۔
بحر الکاہل کے باسیوں کے لیے ماحولیاتی تبدیلی ڈگری سیلسیس میں ناپے جانے والا عدد نہیں، بلکہ صبح ساحل پر پہنچنے والے ان کے خالی جال ہیں۔ اگر عالمی سطح پر سمندری وسائل کے انتظام میں فوری اور سخت تبدیلیاں نہ لائی گئیں، تو ان جزیروں کا روایتی طرزِ زندگی ایک نسل کے اندر تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے۔
