پشاور — خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کام کرنے والی خواتین اور طالبات کے لیے مفت الیکٹرک سکوٹرز فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی، جس کا بنیادی مقصد خواتین کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ان کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت کو بڑھانا ہے۔
صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی محدود سہولیات اور خواتین کے لیے سفر میں درپیش مشکلات طویل عرصے سے ایک چیلنج رہی ہیں۔ اب حکومت کا ماننا ہے کہ الیکٹرک سکوٹرز کی فراہمی سے نہ صرف ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نجات ملے گی بلکہ خواتین اپنے تعلیمی اور دفتری سفر کے لیے کسی دوسرے کی محتاج نہیں رہیں گی۔
وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ یہ محض ایک سواری کی فراہمی نہیں، بلکہ ان رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش ہے جو خواتین کو گھروں تک محدود رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، منصوبے کے تحت سکوٹرز کی خریداری کے لیے ٹینڈر کا عمل آئندہ چند ہفتوں میں شروع کر دیا جائے گا۔
منصوبے کا آغاز مرحلہ وار ہوگا، جس میں پہلے مرحلے میں پشاور، مردان اور ایبٹ آباد جیسے بڑے شہروں کو شامل کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلیت کا معیار طے کیا جا رہا ہے، جس میں کم آمدنی والی خواتین اور طویل فاصلہ طے کرنے والی طالبات کو ترجیح دی جائے گی۔
دوسری جانب، ناقدین نے صوبے بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک نہ بچھایا گیا تو دور دراز علاقوں میں ان سکوٹرز کا استعمال ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ حکومت نے تاحال اس انفراسٹرکچر کے لیے کسی مخصوص بجٹ کا اعلان نہیں کیا۔
پشاور کی مصروف سڑکوں پر دھکے کھانے والی خواتین کے لیے یہ اعلان ایک امید کی کرن ضرور ہے، لیکن اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار شفاف تقسیم کے نظام پر ہے۔ ماضی میں سرکاری سکیموں کی تقسیم کے عمل پر اٹھنے والے سوالات کے پیش نظر، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سہولت واقعی ان خواتین تک پہنچ پاتی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
