ویب ڈیسک
پوپ لیو چہارم دہم نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز ترکی سے کیا ہے جبکہ اگلا مرحلہ لبنان ہوگا۔ یہ دورہ نہ صرف یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے بلکہ مسیحی تاریخ کے اہم واقعے ’’کونسل آف نقیہ‘‘ کے 1700 سال مکمل ہونے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جہاں 325 عیسوی میں ’’نقیہ عقیدہ‘‘ تشکیل دیا گیا تھا۔
انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران پوپ نے ترکی کے کردار کو مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل قرار دیا۔ اردوان نے پوپ کے ’’بلیو مسجد‘‘ کے دورے کو سراہتے ہوئے فلسطینی مسئلے پر ویٹی کن کے مؤقف کی تعریف کی اور کہا کہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی پاپولسٹ سیاست اور سوشل میڈیا چھپا رہے ہیں۔
اِس دوران استنبول میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جہاں پوپ چرچ، فلاحی مراکز اور ویٹی کن مشن کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ نقیہ کونسل کی سالگرہ کے پروگراموں کے لیے اِزنک جائیں گے۔ اس موقع پر ایک حیران کن واقعہ اس وقت پیش آیا جب پوپ جان پال دوم پر حملہ کرنے والا مہمت علی آغجا ازنک پہنچا اور پوپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تاہم حکام کے مطابق ایسی کوئی ملاقات طے نہیں۔
پوپ لیو نے ترکی کو مذاہب اور ثقافتوں کے سنگم کے طور پر سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکی کی مسیحی اقلیت خود کو قومی شناخت کا حصہ سمجھتی ہے اور قومی اتحاد میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
