کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کے پراسرار قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور شہریوں کی پولیس رابطہ کمیٹی کے ایک سینئر عہدیدار کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔
آر وائی نیوز کے مطابق کراچی پولیس چیف کی ہدایات پر ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج آزاد خان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے تحت اسسٹنٹ چیف کاشف افتخار کو تفتیشی ٹیم کا رکن مقرر کیا گیا ہے، جو اس ہائی پروفائل کیس میں تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی مدد سے تفتیش کاروں کو شواہد اکٹھا کرنے میں مزید مدد ملے گی۔
یہ اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پولیس کو گلستان جوہر میں مقتول کی لاش ملنے کے مقام سے متعلق ایک اہم سی سی ٹی وی فوٹیج ہاتھ لگی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق فوٹیج میں 29 جولائی کو رات تقریباً 3 بج کر 36 منٹ پر ایک سنسان مقام پر ایک مشکوک موٹر سائیکل کو رکتے اور تقریباً 22 سیکنڈ تک وہاں موجود رہتے دیکھا گیا ہے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ اسی مختصر وقفے کے دوران میر رضا علی کی لاش وہاں پھینکی گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ تفتیشی ٹیم اس زاویے پر بھی کام کر رہی ہے کہ ملزمان لاش کے ساتھ مبینہ طور پر پسٹل ہولسٹر یا کوئی ہتھیار بھی وہیں چھوڑ گئے ہوں گے یا اسے بعد میں لینے واپس آئے ہوں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے دستیاب شواہد کی روشنی میں قاتلوں تک پہنچنے کے لیے تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
