کراچی: کراچی کے علاقے ڈیفینس ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن سے محض چند قدم کے فاصلے پر ایک کم عمر نوجوان کو مسلح ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر موبائل فون سے محروم کر دیا۔ واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس اور انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق واقعہ جمعرات 30 جولائی 2026 کو دوپہر تقریباً 1:45 بجے اس وقت پیش آیا جب حسین نامی نوجوان مسجد سے باہر نکل رہا تھا۔ متاثرہ نوجوان کے مطابق ایک نقاب پوش موٹر سائیکل سوار ملزم نے اسے روکا، اسلحہ دکھا کر موبائل فون چھینا اور باآسانی فرار ہو گیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ واردات کسی سنسان علاقے میں نہیں بلکہ بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن کے بالکل قریب ڈیفینس ویو فیز ٹو میں ہوئی، جو کہ باؤنڈری وال سے گھرا ہوا ایک ایسا محلہ ہے جہاں آمد و رفت کے صرف تین راستے ہیں۔
اہل محلہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ پچھلے ایک ماہ کے دوران صرف فیز ٹو میں درجنوں اسٹریٹ کرائمز اور موبائل چھیننے کی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ حسین کے واقعے سے دو دن قبل اسی گلی کے ایک اور نوجوان کا فون بھی اسی طرح چھینا گیا تھا، جبکہ اگلے ہی روز دو مسلح افراد نے موٹر سائیکل چرانے کی کوشش کی جو زنجیر ٹوٹنے پر موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ مکینوں کے مطابق جرائم میں ملوث افراد اکثر منہ چھپا کر اور بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں پر دندناتے پھرتے ہیں۔ متاثرہ فیملی نے بتایا کہ انہوں نے خود ٹریس کر کے پولیس کو موبائل کی آخری لوکیشن بھی فراہم کی، لیکن نہ تو فون برآمد ہوا اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔
جب اس بڑھتے ہوئے بحران پر بلوچ کالونی کے ایس ایچ او زاہد سومرو سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اسٹریٹ کرائمز اور بالخصوص موبائل اسنیچنگ میں اضافے کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تھانے میں عملے کی شدید کمی ہے، پیٹرولنگ گاڑیوں کے لیے ڈیزل کی قلت کا سامنا ہے اور دستیاب پولیس فورس کو اکثر وی آئی پی سیکیورٹی اور الیوکیشن ڈیوٹیز پرتعینات کر دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نفری کی فراہمی کے لیے اعلیٰ حکام کو خط لکھ دیا گیا ہے اور جلد مزید اہلکار ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 21 جولائی 2026 کو امن و امان کے ایک جائزہ اجلاس کے دوران آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی اعتراف کیا تھا کہ شہر میں صرف موبائل فون چھینے جانے کے جرائم میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بھی اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔
