اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمانی وفد اسلام آباد میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی رہائش گاہ پر پہنچا، جہاں انہوں نے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے بات چیت کی اور پیپلز پارٹی سے انتخابی تعاون کی درخواست کی۔
پی ٹی آئی وفد میں اسد قیصر، عاطف خان، علی اصغر، جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد خان شامل تھے، جبکہ اس ملاقات میں پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا بھی شریک تھے۔
وفد نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری روایات کا احترام کیا ہے اور اسی جذبے کے تحت وزیراعلیٰ کے انتخاب میں بھی حمایت کی امید کی جا رہی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفد کو یقین دلایا کہ علی امین گنڈا پور کے استعفے کی منظوری آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "صوبے کی ترقی، امن، اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔”
ادھر، پی ٹی آئی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے بھی وزیراعلیٰ کے انتخاب میں تعاون کی اپیل کی ہے، جہاں پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے چار امیدواروں کے کاغذات منظور ہو چکے ہیں:
سہیل آفریدی (پی ٹی آئی)
مولانا لطف الرحمٰن (جے یو آئی ف)
سردار شاہ جہان یوسف (مسلم لیگ ن)
ارباب زرک خان (پیپلز پارٹی)
اسمبلی اجلاس پیر کے روز طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار لانے پر غور کر رہی ہیں اور دیگر امیدوار دستبردار ہو سکتے ہیں۔
جے یو آئی ف کے رہنما مولانا لطف الرحمٰن اور ڈاکٹر عباد اللہ نے آئینی نکتہ اٹھایا کہ جب تک علی امین گنڈا پور کے استعفے کی باضابطہ منظوری نہیں ہوتی، نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
